امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل پر عائد پابندی عارضی طور پر ہٹانے کے نتیجے میں تقریباً 14 کروڑ بیرل تیل کی عالمی منڈی تک رسائی ممکن ہو پائے گی۔ دوسری جانب سی ایس آئی ایس اور بی بی سی کے تجزیے کے مطابق جنگ کے ابتدائی دو ہفتوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں میں 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
- امریکہ ایران کا جوہری مواد قبضے میں لینے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے، سی بی ایس نیوز
- امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں سے اب تک 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، رپورٹ
- جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں: عباس عراقچی
- امریکہ کا سمندر میں پھنسے ایرانی تیل پر سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان
- ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی ختم کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم آبنائے ہرمز کی حفاظت ان ممالک کو کرنی ہو گی جو اسے استعمال کرتے ہیں
- پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ وفاقی حکومت خود اٹھا رہی ہے تاہم ’یہ کوئی دیرپا حل نہیں ہے‘
امریکہ کا ایرانی تیل سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان: ’مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں سے 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا،‘ رپورٹ