امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات آج اور کل وفاقی دارالحکومت میں ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور آج وفود کی سطح پر ہوگا جبکہ مرکزی اور فیصلہ کن مرحلہ ہفتے کو متوقع ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکراتی مقام کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی اہم ملاقاتوں میں شریک ہوں گے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے ملاقات کی جس میں اعلیٰ سطح کا وفود کی آمد اور سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکرات بند کمروں میں ہوں گے اور حساس امور پر بات چیت کی جائے گی جبکہ ممکنہ ڈیل امریکا کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات ایک خفیہ مقام پر ہوں گے جہاں میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہوگی تاہم امریکی اور ایرانی حکام کی براہِ راست ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے، کشیدگی کے خاتمے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان نے اس عمل میں کلیدی ثالثی کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔