امریکہ کے ساتھ محدود جنگ ایران کے لیے امن کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند کیوں ہو سکتی ہے؟

واشنگٹن نے ایک بہت وسیع علاقائی تنازع میں بہت کم دلچسپی ظاہر کی ہے، جو خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، مزید ممالک کو اس میں شامل کر سکتا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھا سکتا ہے اور امریکی فوجی وسائل پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
Missile launchers in a square in Iran.
Anadolu via Getty Images
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے

اس ہفتے کے آغاز میں اردن میں ایک امریکی اڈے پر ایران کے اچانک میزائل حملے کی وضاحت مشکل تھی۔

اس حملے نے عملاً امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست لڑائی میں موجود نازک وقفہ ختم کر دیا اور واشنگٹن کو ایران کے اندر دوبارہ حملے شروع کرنے پر آمادہ کیا۔

یہ غیر معمولی بھی تھا۔

اگر تہران کی ترجیح جنگ بندی حاصل کرنا ہوتی تو پھر اس حملے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

لیکن اگر ایرانی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ایک کنٹرول میں رکھی گئی محاذ آرائی اسے زیادہ سٹریٹجک فائدہ دے سکتی ہے، تو یہ فیصلہ زیادہ قابلِ فہم ہو جاتا ہے۔

ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ تہران کا خیال ہے کہ خطرات کے باوجود ایک محدود جنگ اس کے مفادات کے لیے بہتر ہے۔

آج دونوں فریق مکمل جنگ کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔

واشنگٹن نے ایک بہت وسیع علاقائی تنازع میں بہت کم دلچسپی ظاہر کی ہے، جو خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، مزید ممالک کو اس میں شامل کر سکتا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھا سکتا ہے اور امریکی فوجی وسائل پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

ایران بھی ممکنہ طور پر مکمل جنگ سے بچنے کی کوشش کرے گا کیونکہ اس کا کمزور فضائی دفاع، غیر محفوظ صنعتی بنیادی ڈھانچہ اور پابندیوں سے محدود معیشت نقصانات کی تلافی کو مسلسل زیادہ مشکل اور مہنگا بنا دیتے ہیں۔

ایران شاید اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ موجودہ حالات میں فوری اور مکمل فوجی فتح حاصل کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ ایسی حکمتِ عملی اپنانا چاہتا ہے جس میں مخالف فریق پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا جائے۔

موجودہ حالات میں ایک طویل جنگ بندی دراصل تہران کو کمزور پوزیشن میں چھوڑ سکتی ہے۔

ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، پابندیاں برقرار رہیں گی اور ایران بڑی حد تک بین الاقوامی توانائی منڈیوں سے باہر ہی رہے گا۔

A man with grey hair, black clothing and sunglasses looks on from a stone observation point in Oman at the Strait of Hormuz. In the distance are at least five boats and a buoy floating on the water.
Getty Images
اگرچہ ایران کو بھاری فوجی اور اقتصادی قیمت چکانا پڑ رہی ہے، آبنائے ہرمز میں خلل کے اثرات عالمی سطح پر برقرار ہیں۔

آبنائے ہرمز میں اثر و رسوخ

دریں اثنا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور خطے کے دیگر تیل اور گیس برآمد کرنے والے ممالک بتدریج اپنی معمول کی برآمدات بحال کر سکتے ہیں جبکہ ایران اقتصادی طور پر تنہا ہی رہے گا۔

ایک محدود تنازع ایران کے لیے اس منظرنامے کو بدل سکتا ہے۔

اگرچہ ایران کو بھاری فوجی اور اقتصادی قیمت چکانا پڑ رہی ہے، آبنائے ہرمز میں خلل اور حوثیوں کے ذریعے ’باب المندب‘ کے اطراف دباؤ عالمی جہاز رانی، انشورنس اخراجات اور توانائی منڈیوں کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔

حتیٰ کہ محدود غیر یقینی صورتحال بھی حکومتوں، بحری جہازوں کے مالکان اور درآمد کنندگان کو ایران کے مطالبات پر توجہ دینے پر مجبور کرتی ہے۔

درحقیقت تہران کا خیال ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس اب بھی اثر و رسوخ موجود ہے۔

ایران سفارتی بحث کا رخ بدلنے کی کوشش بھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔

غیر محدود جہاز رانی کی آزادی قبول کرنے کے بجائے، اس نے بارہا اشارہ دیا ہے کہ جہاز رانی ایسے قواعد کے تحت ہونی چاہیے جن پر ایران کی رضامندی ہو یا جن کا انتظام ایران کرے۔

اگر یہ تشریح درست ہے تو تہران کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی کسی بھی آئندہ بحالی میں ایرانی اثر و رسوخ کی عکاسی ہو، نہ کہ جنگ سے پہلے کی صورتحال کی بحالی۔

جاری رہنے والا محدود تنازع ایران کو اس مقصد کے حصول کے لیے دباؤ برقرار رکھنے کا موقع دے گا۔

تہران کے نقطۂ نظر سے مکمل جنگ کی حد سے نیچے رہتے ہوئے بحران کو زندہ رکھنا ایسی جنگ بندی قبول کرنے سے بہتر ہو سکتا ہے جو پابندیوں، ناکہ بندی اور اقتصادی تنہائی کو بڑی حد تک برقرار رکھے۔

اس میں اندرونی سیاسی حساب کتاب بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ایران کو اب بھی بہت بلند افراطِ زر، بے روزگاری، اقتصادی مشکلات اور عوامی بے اطمینانی کا سامنا ہے۔

بیرونی تنازعات کے دوران حکومتوں کے لیے اکثر اندرونی مخالفت کو دبانا، سخت سکیورٹی اقدامات کا جواز پیش کرنا اور قومی دفاع کے گرد حمایت اکٹھی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس سے ایران کے اقتصادی مسائل ختم نہیں ہوتے، لیکن ان سے پیدا ہونے والے فوری سیاسی دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔

Wide shot showing a busy street with shops in Tehran. There are several men and women walking through the street At the front of the image is a young boy wheeling a trolley behind him.
Getty Images
امریکہ کے ساتھ تنازع ملک کو درپیش اندرونی دباؤ ختم نہیں کرتا، لیکن ان سے پیدا ہونے والے فوری سیاسی دباؤ میں کمی لا سکتا ہے۔

’کنٹرولڈ‘ تنازع

اس سب کا یہ مطلب نہیں کہ یہ حکمتِ عملی بھاری اخراجات سے خالی ہے۔

ایران اب بھی بار بار ہونے والے فوجی حملوں اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ موجودہ توازن برقرار رکھا جا سکے گا۔

یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس کا سامنا تہران کو ہے۔

ایک کنٹرولڈ تنازع فی الحال ایک نامکمل امن سے زیادہ اثر و رسوخ فراہم کر سکتا ہے، لیکن قابو میں رکھے گئے تنازعات اکثر بے قابو ہو جاتے ہیں۔

ایران کا خیال ہو سکتا ہے کہ وہ کشیدگی کو اتنی احتیاط سے منظم کر سکتا ہے کہ امریکہ، عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سفارت کاری پر دباؤ برقرار رہے جبکہ مکمل جنگ سے بچا جا سکے۔

لیکن اس حساب کتاب میں بھی نمایاں خطرات شامل ہیں۔

زیادہ وسیع جنگ کے امکان کے علاوہ، کسی واضح انجام کے بغیر طویل تنازع بتدریج ایک سخت ردعمل کے حق میں بین الاقوامی حمایت کو مضبوط کر سکتا ہے۔

پہلے ہی ایسی علامات موجود ہیں کہ تنازع پھیل رہا ہے۔

سعودی عرب، جو ابتدا میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کرنا چاہتا تھا، عراق میں ایران نواز شیعہ گروہوں کے خلاف حملے کر چکا ہے اور حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کر چکا ہے۔

اگر عالمی تجارت اور توانائی منڈیوں میں خلل جاری رہتا ہے تو وہ دیگر ممالک بھی، جو اب تک غیر جانب دار رہنے کی کوشش کر رہے تھے، ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کے لیے زیادہ آمادہ ہو سکتے ہیں۔

بعض حکومتیں یہ نتیجہ بھی اخذ کر سکتی ہیں کہ زیادہ مضبوط ردعمل کے اخراجات برداشت کرنا بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنے والے بار بار کے بحرانوں کے ساتھ جینے سے بہتر ہے۔

اوپر بیان کردہ امکانات، جن میں مزید ممالک کا فعال طور پر شامل ہونا بھی شامل ہے، درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں، یہ اب بھی غیر یقینی ہے۔

بہت کچھ اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ آیا تہران اپنے اقدامات کو متوازن رکھتے ہوئے ایسی جوابی کارروائی سے بچ سکتا ہے جو امریکہ کے سیاسی اور فوجی حسابات کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے۔

اگلا غیر متوقع حملہ یہ طے کر سکتا ہے کہ تنازع کس راستے پر آگے بڑھتا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US