عالمی سطح پر ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اہم مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو خصوصی ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے کامیاب مذاکرات کریں۔
امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر محمد باقر قالیباف نمائندگی کریں گے۔
اسلام آباد پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کا منتظر ہے اور اگر ایران نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو امریکا بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں امن معاہدے کی امید ظاہر کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ لبنان پر حملوں میں کمی کی جائے گی، جس کے بعد وہاں کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
تمام غیر ملکی وفود ان اہم مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں جن کے نتائج پر عالمی امن کا دارومدار ہے۔