کراچی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین نثار کھوڑو کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں محکمہ صحت سندھ سے صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں کو اربوں روپے کی ادویہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کی فہرست اور تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔
کمیٹی روم میں ہونے والے اس اجلاس میں کمیٹی رکن مخدوم فخر الزمان، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، چیف ڈرگ انسپیکٹر غلام علی لاکھو، مختلف اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور ڈی ایچ اوز سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
دورانِ اجلاس چیئرمین پی اے سی کے استفسار پر سیکریٹری صحت طاہر سانگی نے بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے 75 فیصد ادویہ کی خریداری سینٹرلائزڈ نظام اور 15 فیصد مقامی سطح پر کی جاتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ادویہ کی خریداری سیپرا (SPPRA) قوانین کے تحت منتخب کردہ کمپنیوں سے ہی کی جاتی ہے۔ غیر معیاری ادویہ کی چیکنگ کے حوالے سے چیئرمین کے سوال پر سیکریٹری صحت اور چیف ڈرگ انسپیکٹر غلام علی لاکھو نے بتایا کہ ڈرگ کنٹرول اتھارٹی اور اسپتالوں کے فارماسسٹ غیر معیاری ادویہ پر نظر رکھتے ہیں اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کے بعد ہی ادویہ خریدی جاتی ہیں۔
اس پر چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے ہدایت کی کہ جن کمپنیوں سے اربوں روپے کی ادویہ خریدی جاتی ہیں، ان کے ناموں کی فہرست اور ادویہ کی تمام تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔
اجلاس میں اسپتالوں میں طبی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین پی اے سی نے سندھ کے سول اسپتالوں میں ایم آر آئی مشینوں کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا۔ اس پر سیکریٹری صحت نے اعتراف کیا کہ ہر سول اسپتال میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور ڈائلائسز کی مشینیں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ بھر کے تمام ہسپتالوں میں مریضوں کو ریڈیولوجی ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے محکمہ صحت ریڈیولوجی سروسز کو آؤٹ سورس کرنے جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران چیف ڈرگ انسپکٹر نے انکشاف کیا کہ سرکاری اسپتالوں کو 55 کمپنیاں سرنجز اور ڈرپ سیٹ فراہم کرتی ہیں، جن میں سے 38 کمپنیوں کے پروڈکٹس غیر معیاری ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ان تمام 38 غیر معیاری سرنجز اور ڈرپ سیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہیں۔