ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ آزاد خان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کے معاملے میں شواہد چھپانے والے کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر شواہد اکٹھے کرنے کے دوران میڈیکل رپورٹ کے باعث کچھ مسائل پیدا ہوئے تھے، تاہم نئی میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد سابقہ کمیٹی کو ختم کر کے نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اب اس کیس کی جانچ کر رہی ہے۔ دوسری جانب مقتول کے بزنس پارٹنر محمد احمد نے اس معاملے میں اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کروا لی ہے۔
کیس کی تفتیش کے لیے نئی کمیٹی کا فیروز آباد تھانے میں اجلاس ہوا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلے کیے گئے۔ ڈی آئی جی کراچی برانچ کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے پرانے تفتیشی افسر کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نرسری کے عملے سے تفصیلات حاصل کیں اور موقع سے مزید شواہد اکٹھے کیے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق کمیٹی کے اراکین کو مختلف ٹاسک دیے گئے ہیں اور جلد ہی میر رضا کے اہل خانہ کے علاوہ حراست میں لیے گئے 21 افراد کے باضابطہ بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ہی نئی تفتیشی ٹیم نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو 4 خطوط ارسال کر کے مقتول کے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تفصیلات اور اس کی اسمارٹ واچ کا فرانزک کروانے کی درخواست کی ہے۔
تاہم مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ اسمارٹ واچ کئی دنوں تک سابقہ کمیٹی کے سربراہ کے پاس رہی ہے اور اس میں ٹیمپرنگ کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس کا فرانزک این سی سی آئی اے کے بجائے لاہور فارنزک لیب سے کروایا جائے۔