سعودی عرب نے پاکستان کو مشکل معاشی صورتحال میں مالی تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرا دی ہے جبکہ دونوں ممالک نے اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان کے دورہ پاکستان کے دوران اعلیٰ سطح ملاقاتوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر قرض اور آئل فنانسنگ سہولت میں توسیع کی درخواست کی گئی جبکہ ادھار تیل کی سہولت کو مزید 5 سال بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
حکام کے مطابق پاکستان کو رواں ماہ بھاری قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ درپیش ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے اضافی مالی معاونت کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی وزیر خزانہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ سعودی وزیر خزانہ نے بھی پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
محمد بن عبداللہ الجدعان اپنا ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئے جبکہ وزارت خزانہ کے مطابق عالمی مالیاتی اجلاس کے موقع پر دوبارہ ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری اور قریبی تعلقات کا مظہر ہے۔