اس وقت دنیا بھر کی نظریں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر مرکوز ہیں جہاں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود اہم مذاکرات کے لیے موجود ہیں۔ یہ بات چیت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
جنگ بندی میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے جسے اس کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر تقریباً ایک دہائی بعد امریکی اعلیٰ سطح وفد جس میں نائب صدر بھی شامل ہیں کا دورہ پاکستان غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ 1959 میں امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے صدر ایوب خان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔
1961 میں امریکی نائب صدر لنڈن بی جانسن کا دورہ بھی یادگار رہا جب انہوں نے ایک مقامی شہری سے ملاقات کر کے ایک منفرد سفارتی روایت قائم کی۔
بعد ازاں 1969 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے پاکستان کا دورہ کیا جس نے امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی روابط کی راہ ہموار کی جبکہ ہینری کسنجر کا خفیہ دورہ عالمی سفارت کاری میں اہم موڑ ثابت ہوا۔
1984 میں امریکی نائب صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے بھی پاکستان کا دورہ کیا جبکہ 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن کا مختصر مگر اہم دورہ عالمی توجہ کا مرکز بنا۔
2006 میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے پاکستان کا دورہ کیا جبکہ ڈک چینی اور جو بائیڈن بھی مختلف ادوار میں بطور نائب صدر پاکستان آتے رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام تاریخی دورے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے اور دنیا میں ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کرتا آیا ہے اور اسلام آباد میں جاری حالیہ مذاکرات اسی تسلسل کی ایک نئی کڑی ہیں جن سے خطے میں امن اور استحکام کی نئی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔