الجزیرہ ٹی وی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ پاک-امریکا مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو منظم کرنے کے لیے ایک اہم تجاویز پیش کی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت براہِ راست تھی جس میں میزبان ملک کے طور پر پاکستان بھی موجود تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ان تجاویز کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور بین الاقوامی بحری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان کی جانب سے دی گئی اس تجویز میں آبنائے ہرمز میں "مشترکہ پیٹرولنگ" کا فارمولا بھی شامل ہے، تاکہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دیا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف دونوں ممالک کو کسی ممکنہ سمجھوتے کے قریب لانے کے لیے ہیں بلکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم اس گزرگاہ کو مستحکم رکھنے کی ایک سنجیدہ سفارتی کوشش بھی قرار دی جا رہی ہے۔
اگرچہ مذاکرات کا یہ دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا ہے، تاہم پاکستان کی ان تجاویز کو مستقبل کے مذاکراتی فریم ورک کے لیے ایک اہم بنیاد تصور کیا جا رہا ہے۔