خیبر پختونخوا حکومت نے خواتین سے متعلق کیسز کے لیے صرف خواتین افسران تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ ریکارڈز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق باپردہ خواتین کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے مرد اہلکاروں کی تعیناتی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں اس فیصلے کا اطلاق پشاور میں کیا جائے گا جبکہ بعدازاں اسے پورے صوبے تک توسیع دی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں متعلقہ حکام کو فوری طور پر عملدرآمد کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تحصیلدار سطح پر دو خواتین افسران کو اہلِ کمیشن کے طور پر تعینات بھی کردیا گیا ہے۔