’متعدد سیلرز نے سمندر میں چھلانگ لگانے کا سوچا‘: امریکی طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لِنکن‘ پر حالات تشویش کا باعث کیوں؟

حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران جنگ سے قبل مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے جانے والے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لِنکن‘ پر تعینات عملے کے سینکڑوں اراکین کو خوراک کی قلت، بگڑتی ذہنی صحت اور دیگر مسائل کا سامنا ہے جبکہ بعض سیلرز نےجہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کا بھی سوچا۔
USS Abraham Lincoln
Getty Images

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لِنکن‘ پر گذشتہ 250 روز سے زائد عرصے سے تعینات ہزاروں امریکی فوجی اہلکار مبینہ طور پر خوراک کی قلت، ذہنی صحت اور شدید تھکن جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث امریکی قانون سازوں نے پینٹاگون سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

اس نوعیت کی رپورٹس کی اشاعت کے بعد امریکی قانون ساز ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ پر بھی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

امریکی فوج سے متعلق رپورٹ کرنے والے اداروں کے مطابق ’یو ایس ایس ابراہم لِنکن‘ پر تعینات چند سیلرز (ملاحوں) نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی، جبکہ چند اہلکاروں کے اہلخانہ نے اِس امریکی جنگی جہاز پر موجود عملے کی ذہنی صحت کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس نوعیت کی خبروں کو ’مکمل طور پر حقائق کے برعکس‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی جنگی جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ گذشتہ سال نومبر میں کیلیفورنیا سے بحیرہ جنوبی چین کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے قبل اِسے مشرق وسطیٰ بھیج دیا گیا تھا۔

جہاز کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی مئی 2026 میں ختم ہونا تھی، لیکن اس کے بعد اس تعیناتی میں بارہا توسیع کی گئی۔

تاحال جہاز کی مشرق وسطیٰ سے واپسی کی کوئی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے، تاہم متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ جلد ہی اس کی جگہ ’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ نامی جنگی بحری جہاز کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

امریکی ریاست کنیکٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے نام اپنے خط میں یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود تقریباً پانچ ہزار پر مشتمل عملے کے افراد کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ بنیادی ضروریات کی کمی، پینے کے پانی کی آلودگی، جہاز پر پلمبنگ کے مسائل، عملے کی ذہنی صحت کی بگڑتی صورتحال، ڈیک پر حفاظتی خدشات اور ڈاک کے نظام میں خلل جیسے مسائل سنگین تشویش کا باعث ہیں۔

اُن کے مطابق جہاز پر تعینات عملے کے اراکین کے لیے بھیجے گئے متعدد پارسل اور پیکٹس کئی ماہ گزرنے کے باوجود عملے تک نہیں پہنچے اور راستے میں ہی گم ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اطلاعات فوری توجہ کی متقاضی ہیں اور ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ آیا امریکی بحریہ اپنا آپریشنل ٹیمپو برقرار رکھ سکتی ہے؟

USS Abraham Lincoln
Getty Images

ایریزونا سے ڈیموکریٹ سینیٹر روبن گالیگو نے بھی مطالبہ کیا کہ کانگریس کے ارکان پر مشتمل ایک وفد کو یو ایس ایس ابراہم لنکن کا دورہ کرنے اور اِس کی صورتحال کی نگرانی کے لیے تحقیقات کرنے کی اجازت دی جائے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ایسی صورتحال میں جہاز تک کانگریس اراکین کی رسائی سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔

امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ نے دو نامعلوم حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ رواں ماہ کے آغاز میں یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ایک سیلر (ملاح) نے جہاز سمندر میں چھلانگ لگا دی، جسے بعدازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچا لیا گیا۔

سیلر کو طبی امداد فراہم کی گئی اور مزید علاج کے لیے جہاز سے منتقل کر دیا گیا۔ اس واقعے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب ’ملٹری ٹائمز‘ اور ’سٹارز اینڈ سٹرائپس‘ کی رپورٹس کے مطابق اِس جہاز پر تعینات متعدد دیگر اہلکاروں نے بھی سمندر میں کُودنے کے بارے میں سوچا تھا۔ ایسے اہلکاروں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک سمندر میں رہنے اور جہاز پر موجود خراب حالات نے اہلکاروں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی اہلکار ایک ہفتے سے زائد عرصے تک اپنے کپڑے دھونے سے محروم رہے جبکہ بندرگاہوں پر محدود رسائی کے باعث تازہ خوراک کی دستیابی بھی مسئلہ رہی ہے جبکہ بعض مواقع پر فوجیوں کو جہاز سے اُترنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

بی بی سی سے گفتگو کرنے والے ایک سیلر (ملاح) کے رشتہ دار نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُن کے رشتہ دار کا یو ایس ایس ابراہم لنکن پر حالیہ تعیناتی کے بعد سے تقریباً 29 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دیگر سیلرز (ملاحوں) نے بھی جہاز سے چھلانگ لگانے کی کوششوں کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ حالیہ واٹس ایپ پیغامات میں اُن کے رشتہ دار نے لکھا کہ ’میں حد سے زیادہ تھک چکا ہوں۔ بالکل نڈھال ہو گیا ہوں۔ مرا ہوا۔‘

رشتہ دار کے مطابق جہاز کے انجنوں اور اور اس پر طیاروں کی مسلسل آمدورفت کے باعث شور اور ارتعاش ہر وقت موجود رہتا ہے، جس کے باعث یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات عملے کو ذہنی سکون کا کوئی موقع نہیں ملتا۔

اُدھر کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹ رُکن کانگریس مائیک لیون نے اِن مسائل کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار پھپھوندی زدہ باتھ رومز، خراب ٹوائلٹس، ہفتوں سے بند لانڈری سروس، طویل عرصے تک گرم پانی کی عدم دستیابی اور انتہائی محدود خوراک کا سامنا کر رہے ہیں۔

اُن کے مطابق بعض اوقات ایک وقت کا کھانا صرف آدھا کپ چاول اور دو ٹورٹیلاز پر مشتمل تھا جبکہ صابن، ڈیوڈرنٹ اور ٹوتھ پیسٹ جیسی اشیا بھی نایاب تھیں۔

تاہم امریکی بحریہ کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاز پر تعینات عملے میں خودکشی کے خیالات یا اس کی کوشش کرنے میں اضافے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جنگی کارروائیوں کے باعث روایتی سپلائی مراکز متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے چند اشیا کی رسد میں مشکلات پیش آئیں۔

انھوں نے کہا کہ اِس وقت ترجیحی بنیادوں پر پہلے خوراک، پھر صفائی ستھرائی کی اشیا اور اس کے بعد ڈاک جہاز تک پہنچائی جا رہی ہے۔ عہدیدار کے مطابق جہاز پر صاف پانی، فعال ایئر کنڈیشننگ سسٹم اور مناسب غذائی سہولیات مسلسل دستیاب ہیں۔

دوسری جانب وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پاناما میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر جہاز، ہر کپتان اور عملے کے ہر رکُن کو دستیاب تمام وسائل فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے طویل تعیناتی پر موجود سیلرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں اُن کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع دونوں اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ امریکی فوج کو کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری وسائل مہیا کیے جائیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 956 امریکی سیلرز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر تعینات اہلکار دیگر مسلح افواج کے مقابلے میں شدید نفسیاتی دباؤ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ناقص رہائشی سہولیات، مسلسل شور، سخت ڈیوٹی شیڈول اور ناکافی آرام ایسے عوامل ہیں جو ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔

امریکی فوجی اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق خودکشی اب بھی امریکی بحریہ اور میرین کور میں ہلاکتوں کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، جبکہ سابق فوجیوں میں خودکشی کی شرح عام امریکی آبادی کے مقابلے میں زیادہ پائی جاتی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US