پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے تونسہ میں ایچ آئی وی کیسز سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کیسز کا انکشاف پہلی بار 2025 میں ہوا تھا، جس کے بعد صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام نے علاقے میں 50 ہزار سے زائد افراد کی اسکریننگ مکمل کی تھی۔
انہوں نے رپورٹ کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب یہ معاملہ ایک سال قبل ہی نمٹایا جا چکا تھا تو اب اسے دوبارہ رپورٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
صوبائی وزیر نے اسپتال میں سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہاں فضلہ تلف کرنے کا باقاعدہ نظام موجود ہے اور رپورٹ میں دکھائے گئے بعض مناظر حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور اگر رپورٹ غلط ثابت ہوئی تو متعلقہ ادارے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب، برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس تمام تر ثبوتوں اور ویڈیوز کے ذریعے اس اہم مسئلے کی نشاندہی کی تھی، لیکن صورتحال اب بھی جوں کی توں ہے اور اسپتال میں مبینہ بے ضابطگیاں بدستور جاری ہیں۔