تونسہ: بی بی سی آئی کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے پاکستان کے ایک سرکاری اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں سنگین بدانتظامی اور طبی غفلت کے ہوش ربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سال 2025 میں تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں جس بحرانی صورتحال کی نشاندہی ہوئی تھی، وہ حکومتی وعدوں کے باوجود اب بھی برقرار ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اسپتال کے عملے کی جانب سے سرنجوں کا دوبارہ استعمال بدستور جاری ہے۔
خفیہ طور پر ریکارڈ کیے گئے مناظر میں دیکھا گیا ہے کہ جراثیم سے پاک نئی سرنجوں کے بجائے استعمال شدہ سرنجیں دوبارہ استعمال کی جا رہی ہیں، جو بچوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
اگرچہ پاکستانی حکام نے گزشتہ برس سخت کارروائی اور حفاظتی اقدامات کا یقین دلایا تھا، مگر تازہ ترین حقائق بتاتے ہیں کہ زمینی سطح پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی اور معصوم بچے اب بھی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔