وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون کی پیشگی تیاریوں اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں گلوف (Glacial Lake Outburst Floods) سے بچاؤ کے لیے نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے مکمل فعال نہ ہونے پر وزیراعظم نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جامع انکوائری کا حکم دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال کی واضح ہدایات کے باوجود سسٹم کی غیر فعالیت اور اداروں کی ناقص کارکردگی ناقابل قبول ہے عوام کے تحفظ کے لیے تمام اداروں کو جواب دہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادارے اپنی استعداد کار بڑھائیں اور دریاؤں و نالوں کی گزرگاہوں میں تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، واپڈا اور دیگر متعلقہ اداروں کو صوبوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے اور مؤثر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعظم نے پیشگی وارننگ سسٹم اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ انفراسٹرکچر کو مکمل فعال بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ممکنہ آفت سے بروقت نمٹنے کے لیے تیاری ناگزیر ہے۔اجلاس میں اعلیٰ حکام نے جاری اقدامات پر بریفنگ دی جبکہ وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔