وزیراعظم شہباز شریف نے سولر پینلز کی درآمد میں مبینہ اوور اِنوائسنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے دو اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں قائم کردی ہیں، جنہیں تقریباً 120 ارب روپے کے معاملے کی چھان بین کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مانیٹرنگ کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کریں گے، جبکہ تحقیقات اور پراسیکیوشن کمیٹی کی قیادت ڈی جی کسٹمز انٹیلیجنس رباب سکندر کے سپرد کی گئی ہے۔ دونوں کمیٹیوں میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران منی لانڈرنگ سے متعلق پہلوؤں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انٹرنل آڈٹ رپورٹ میں اوور اِن وائسنگ کے اس بڑے اسکینڈل کی نشاندہی کی گئی، جس میں فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز کی کلیئرنس کے عمل میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ صرف 10 فیصد کنسائنمنٹس کے آڈٹ کے دوران ہی 120 ارب روپے کی مبینہ اوور اِن وائسنگ کا انکشاف ہوا ہے۔