گرمی کی شدت بڑھتے ہی گھروں میں ٹھنڈک برقرار رکھنا ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایئر کنڈیشنر کا مسلسل استعمال جہاں بجلی کے اخراجات میں اضافہ کرتا ہے، وہیں اس کی خشک ہوا بعض افراد کے لیے صحت کے مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ایسے میں ایک پرانا مگر آزمودہ طریقہ دوبارہ توجہ حاصل کر رہا ہے اور وہ ہے خس سے بنے پردوں کا استعمال۔
خس دراصل ایک خوشبودار گھاس ہے جس کی جڑیں لمبی اور گھنی ہوتی ہیں۔ انہی جڑوں کو مخصوص انداز میں جوڑ کر پردوں کی شکل دی جاتی ہے، جنہیں کھڑکیوں یا دروازوں پر نصب کیا جاتا ہے۔ جب ان پر پانی ڈالا جاتا ہے تو یہ جڑیں نمی جذب کر کے گرم ہوا کو ٹھنڈی ہوا میں بدل دیتی ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں کمرے کا درجہ حرارت نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے اور ماحول نسبتاً خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔
یہ طریقہ خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں مفید ثابت ہوتا ہے جب گرم ہوائیں شدت اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر پردوں کو وقفے وقفے سے گیلا رکھا جائے تو ہوا میں نمی برقرار رہتی ہے اور اندرونی درجہ حرارت میں واضح کمی آتی ہے۔ اسی وجہ سے کئی گھرانوں میں یہ پردے اے سی کے متبادل یا اس کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اختیار کیے جا رہے ہیں جس سے بجلی کے بل میں بھی خاطر خواہ کمی ممکن ہوتی ہے۔
خس کی ایک اہم خوبی اس کی قدرتی مہک ہے۔ جب پانی جڑوں سے ٹکراتا ہے تو ایک ہلکی سی مٹیالی خوشبو فضا میں پھیلتی ہے جو ذہنی سکون کا احساس دیتی ہے۔ یہی خصوصیت اسے ان لوگوں کے لیے بھی مفید بناتی ہے جو ذہنی دباؤ یا بے چینی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ نم اور خوشبودار ہوا ایک پرسکون ماحول پیدا کرتی ہے۔
اس کے علاوہ ان جڑوں کی بناوٹ ہوا میں موجود گرد و غبار کو کسی حد تک روکنے میں مدد دیتی ہے جس سے اندر آنے والی ہوا نسبتاً صاف ہوتی ہے۔ شہری علاقوں میں جہاں آلودگی ایک عام مسئلہ ہے وہاں یہ پردے ایک سادہ فلٹر کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ ان پردوں کو ایسی جگہ لگایا جائے جہاں سے ہوا کا گزر ہو۔ دن میں چند مرتبہ پانی کا چھڑکاؤ انہیں فعال رکھتا ہے اور ٹھنڈک برقرار رہتی ہے۔ اب یہ پردے جدید ڈیزائن میں بھی دستیاب ہیں، جیسے رولنگ سسٹم، جنہیں استعمال کرنا مزید آسان ہو گیا ہے۔
یوں ایک روایتی طریقہ آج کے دور میں بھی اپنی افادیت برقرار رکھے ہوئے ہے جہاں لوگ مہنگے اور مصنوعی ذرائع کے بجائے سادہ، قدرتی اور کم خرچ حل کی طرف دوبارہ توجہ دے رہے ہیں۔