سی سی ڈی اٹک نے ہری پور پولیس اور ایلیٹ فورس کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے اغوا برائے تاوان، دہشت گردی، ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ، جنسی زیادتی اور بھتہ خوری سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم ضرغام اللہ اور اس کے والد کو ہلاک کر دیا، جبکہ پانچ کروڑ روپے تاوان کے لیے اغوا کی گئی ایک مغویہ کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔
پولیس کے مطابق مشترکہ آپریشن تھانہ کھلابٹ کی حدود ڈھینڈہ بائی پاس، چونگی نمبر 3 کے قریب کیا گیا، جس میں سی سی ڈی اٹک، ہری پور پولیس اور ایلیٹ فورس کے افسران و اہلکاروں نے ڈی ایس پی و ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی اٹک یاسر مطلوب کیانی اور انسپکٹر ایس ایچ او سی سی ڈی اٹک سید عمران حیدر کاظمی کی سربراہی میں حصہ لیا۔
ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب اشتہاری ضرغام اللہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شدید فائرنگ کی، جو دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔ کارروائی کے دوران ملزم نے اپنی جان بچانے کے لیے اہل خانہ کو ڈھال بنانے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا۔
فائرنگ رکنے کے بعد سرچ آپریشن میں ضرغام اللہ اور اس کے والد خالد محمود خان مردہ حالت میں پائے گئے، جبکہ ان کے دیگر ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کے مطابق بعد ازاں سی سی ڈی اٹک نے ملزم کے ایک اور ٹھکانے پر کارروائی کرتے ہوئے تھانہ سٹی اٹک میں درج اغوا برائے تاوان کے مقدمہ نمبر 502/26 میں مغویہ (م۔ض) کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مغویہ کی رہائی کے بدلے ملزمان نے پانچ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
کارروائی کے دوران علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لیا گیا تھا، جبکہ ہلاک ہونے والے ملزمان کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ٹراما سینٹر ہری پور منتقل کردی گئی ہیں۔