ملک میں ایچ آئی وی کیسز میں تشویشناک اضافے کا معاملہ پاکستان کی پارلیمنٹ تک پہنچ گیا ہے جہاں سینیٹر سرمد علی نے اس حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا ہے۔
نوٹس میں وفاقی وزیر صحت سے فوری جواب طلب کرتے ہوئے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں بشمول ٹونسا میں بھی ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار، خون کی غیر معیاری اسکریننگ اور عوامی آگاہی کی کمی شامل ہیں۔
نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خون کی منتقلی کے نظام کو محفوظ بنانے، ٹیسٹنگ سہولیات بہتر کرنے اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ خوف اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
سینیٹر نے خبردار کیا ہے کہ ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کے لیے ملک بھر میں نگرانی کے نظام اور آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ کیسز میں اضافہ پبلک ہیلتھ مینجمنٹ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں فوری طور پر دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔