ای سی سی اجلاس، مہنگائی میں کمی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم ہونے لگیں

image

اسلام آباد میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملکی معاشی صورتحال، مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد اب مہنگائی کے دباؤ میں کمی آ رہی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے آثار نمایاں ہیں۔

بریفنگ کے مطابق ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن، ایل پی جی اور چینی کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ انڈے، چکن، دالیں، کوکنگ آئل، روٹی اور دودھ کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر مارکیٹ میں قیمتیں بتدریج توازن کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

ای سی سی کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر مربوط اقدامات، بہتر سپلائی چین مینجمنٹ اور نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے فعال کردار سے مارکیٹ میں استحکام آیا ہے اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکا گیا ہے۔

اجلاس نے مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور مہنگائی کے دباؤ میں واضح کمی کا رجحان ہے۔

اجلاس میں مختلف تکنیکی ضمنی گرانٹس جن میں کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 10 کروڑ روپے،حکومت بلوچستان کے لیے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے،قومی احتساب بیورو (نیب) کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور اے آئی نظام کی مد میں 37 کروڑ 20 لاکھ روپے، پاکستان ہاکی ٹیم کے لیے 3 کروڑ روپے بطور انعام کی منظوری بھی دی گئی۔

مزید برآں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ہولڈنگ کمپنی کے لیے 5.985 ارب روپے کی منظوری دی گئی جس میں پنشن، طبی اخراجات اور ملازمین کی تنخواہیں شامل ہیں۔

ای سی سی نے درآمدی پالیسی میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کردی جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد و برآمد کے پائلٹ منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں گدھے کے گوشت اور کھال کی برآمد سے متعلق سفارشات اور پاور ڈویژن کے ایک معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اجلاس میں متعدد وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US