ابو یہ میرا آخری میسج ہے، صومالیہ میں آئل ٹینکر پر پھنسے پاکستانی مغوی کا درد بھرا پیغام

image

صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کرکے عملے کو یرغمال بنایا جن میں 11 پاکستانی ملاح بھی شامل ہیں۔

شپنگ ذرائع کے مطابق اونر 25 نامی جہاز پر بحری قزاقوں نے 21 اپریل کو صومالیہ کے قریب حملہ کیا، جہاں مسلح بحری قزاق جہاز پر چڑھ گئے اور مختصر تصادم کے بعد جہاز پر قبضہ کرلیا۔ بعد ازاں ٹینکر کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا جو قزاقوں کے کنٹرول میں ہے۔

حکام کے مطابق جہاز کے عملے میں 11 پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ متاثرہ ملاحوں کے اہلخانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کی خیریت یا مقام سے متعلق کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔

اطلاعات کے مطابق کراچی میں مغویوں کے اہل خانہ شدید اضطراب کا شکار ہیں اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امین بن شمس نامی پاکستانی مغوی کا جذبات سے بھرپور آخری پیغام بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ اپنے پیاروں کو یاد کر کے آبدیدہ ہوجاتا ہے۔

امین کا پیغام میں کہنا تھا کہ ابو ہمیں بحری لٹیروں نے پکڑ لیا اور یہ میرا آخری پیغام ہے اور کیا پتہ میں آپ سے اب بات نہ کر پاؤں۔

مغوی پاکستانی کا آڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ ابو مجھ سے کوئی بھی غلطی ہوئی ہو مجھے معاف کردیجیے گا۔ امین کا پیغام میں مزید کہنا تھا کہ اہلیہ اور بچوں کا خیال رکھیے گا، خدا حافظ۔

اُدھر بحری قزاقوں کی قید میں موجود ایک اور پاکستانی شہری سید کاشف کا آڈیو پیغام بھی وائرل پوا، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ شدید پریشانی میں ہیں اور مسلح افراد نے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر 11 پاکستانیوں کے علاوہ کچھ بھارتی اور انڈونیشین شہری بھی موجود ہیں۔

آڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے، کھانا بھی ختم ہو چکا ہے، حکومت ہماری مدد کرے اور ہماری زندگیاں بچائے۔

دوسری جانب جہاز بھیجنے والی ایجنسی اور متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، جس پر اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں۔

واقعے کے بعد کراچی سمیت مختلف علاقوں میں مغویوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے دعاؤں اور حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US