پاکستان نے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے منصوبے پر عملی پیش رفت شروع کردی ہے، جس کا مقصد ملک کے لیے کم از کم 90 دن کا ایندھن ذخیرہ یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ عدم استحکام کے باعث تیل کی سپلائی میں خلل کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔ حالیہ عالمی صورتحال، خصوصاً ایران سے متعلق کشیدگی، نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی درآمدی تیل پر بھاری انحصار اور بیرونی جھٹکوں کے خطرات نے اس منصوبے کی ضرورت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ مجوزہ حکمت عملی کے تحت حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق اگر فی لیٹر 10 روپے لیوی عائد کی جائے تو سالانہ تقریباً 20 ارب لیٹر کھپت کی بنیاد پر 200 ارب روپے تک آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ اس حساب سے تین سال میں تقریباً 600 ارب روپے، یعنی 2 ارب ڈالر سے زائد رقم جمع کی جا سکتی ہے، جسے اسٹریٹیجک ذخیرہ گاہوں کی تعمیر پر خرچ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ ملے گا بلکہ ہنگامی حالات میں ملک کی توانائی ضروریات کو بھی محفوظ بنایا جاسکے گا۔