کراچی میں حالیہ شجرکاری پالیسی کے دوران کونوکارپس کے خاتمے کی آڑ میں قیمتی اور نایاب درختوں کی کٹائی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث شہر کا سبز احاطہ 2 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔
سندھ حکومت اور شہری اداروں نے کونوکارپس کی جگہ مقامی اقسام لگانے کی مہم شروع کی تھی، تاہم اس دوران 'لگنم وٹائے' جیسے ان درختوں کو بھی کاٹ دیا گیا جو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کی ریڈ لسٹ میں معدومی کے خطرے سے دوچار قرار دیے گئے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کے مطابق کونوکارپس سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ رہا تھا، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر نکالے گئے درخت کی جگہ نیا درخت لگایا جائے گا۔
دوسری جانب ہارٹی کلچرل سوسائٹی آف پاکستان کے ترجمان رفیع الحق نے لگنم کے درختوں کی کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحفظ کے مستحق درختوں کی نگرانی ضروری ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کنکریٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور درختوں کی کمی سے شہر کا ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر رہا ہے، لہٰذا متبادل درختوں کو ترقیاتی منصوبوں کی نذر ہونے سے بچانے کے لیے ٹھوس پالیسی ناگزیر ہے۔