ادائیگیوں کے باوجود ملک کے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں ایک سال کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک سال میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 225 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ فروری میں مجموعی گردشی قرضہ 1838 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوری 2026 میں یہ 1764 ارب روپے تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق فروری 2025 میں گردشی قرضہ 2531 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجہ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کمزور کارکردگی ہے۔
دستاویز کے مطابق پاور سیکٹر میں انڈر ریکوریز میں اگرچہ بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم مجموعی مالی دباؤ برقرار ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آئی پی پیز کو اسٹاک ادائیگیاں بڑھ کر 228 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں، جس کے باعث مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے ڈسکوز کی کارکردگی میں بہتری اور ریکوری نظام کو مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔