محکمہ زراعت کے ڈیلی ویجز ملازمین نے اپنی مستقلی اور ملازمت کے تحفظ کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں مرد و خواتین ملازمین کی بڑی تعداد شریک ہوئی جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت سندھ اور محکمہ زراعت کے حکام سے فوری نوٹس لینے کے مطالبات درج تھے۔
احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 20 سال سے محکمہ زراعت میں ڈیلی ویجز کی بنیاد پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، لیکن طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود انہیں تاحال مستقل نہیں کیا گیا۔ ملازمین نے شکوہ کیا کہ مسلسل محنت، ایمانداری اور محکمانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے باوجود ان کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا گیا ہے۔
مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں عارضی تنخواہ پر گھر کا نظام چلانا انتہائی مشکل ہوچکا ہے، جبکہ کئی ملازمین ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں مگر انہیں مستقل سرکاری ملازم کا درجہ نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بارہا یقین دہانیاں کرائی گئیں مگر عملی اقدامات آج تک نہ ہوسکے۔
ڈیلی ویجز ملازمین نے حکومت سندھ، وزیر زراعت اور متعلقہ سیکریٹری سے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی 20 سالہ خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر انہیں مستقل کیا جائے تاکہ ان کے گھروں کے چولہے جل سکیں اور ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوسکے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے سندھ بھر میں دھرنوں اور احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔