وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کو رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں مقررہ حصے سے 45 فیصد کم فنڈز فراہم کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے متعلق سرکاری دستاویز سامنے آگئی ہے۔
دستاویز کے مطابق سندھ کا مجموعی شیئر 20 کھرب 95 ارب 57 کروڑ روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم وفاق نے 9 ماہ کے دوران صرف 11 کھرب 40 ارب 47 کروڑ روپے جاری کیے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ 3 ماہ میں سندھ کو مزید 9 کھرب 55 ارب 10 کروڑ روپے ادا کیے جانے ہیں۔
مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت سندھ کا حصہ 19 کھرب 27 ارب 32 کروڑ روپے بنتا ہے، جس میں سے 9 ماہ کے دوران 10 کھرب 37 ارب 54 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق تیل، گیس اور معدنیات کی مد میں سندھ کا حصہ ایک کھرب 16 ارب 43 کروڑ روپے ہے، تاہم اس میں سے 9 ماہ میں صرف 76 ارب 34 کروڑ روپے دیے گئے۔
اسی طرح آکٹرائے ضلع ٹیکس کی مد میں سندھ کا حصہ 51 ارب 81 کروڑ روپے بنتا ہے، جس کے مقابلے میں 9 ماہ کے دوران 26 ارب 58 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔
دستاویز میں ظاہر کیا گیا ہے کہ مختلف مدات میں سندھ کو ادائیگیوں میں نمایاں کمی رہی، جس سے صوبے کو مالی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔