وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زلزلہ متاثرین کی یاد میں عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے مختص یہ دن نہ صرف جاں بحق افراد کی یاد دلاتا ہے بلکہ زندہ بچ جانے والوں سے ہمدردی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات سے بچاؤ کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر، جامع حکمت عملی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی وارننگ سسٹمز، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط تعمیراتی ڈھانچے کے ذریعے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم نے 2005 کے تباہ کن زلزلے کو قومی تاریخ کا المناک باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سانحے میں آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 80 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً 30 لاکھ بے گھر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے بعد پاکستان نے آفات سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کیں جن میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ زلزلوں کی پیشگی پیش گوئی ممکن نہیں، تاہم این ڈی ایم اے جدید ٹیکنالوجی، جغرافیائی ڈیٹا اور تاریخی رجحانات کی مدد سے خطرے والے علاقوں کی نشاندہی اور نقصانات میں کمی کے لیے کام کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے آفات کے خطرات میں کمی (UNDRR) اور سینڈائی فریم ورک 2015–2030 کے تحت پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ابتدائی وارننگ سسٹمز اور زلزلہ مزاحم انفراسٹرکچر تک مساوی رسائی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کمیونٹی فرسٹ ریسپانڈرز کی تربیت، اسکول سیفٹی پروگرام، اور جدید جی آئی ایس و سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعے عوامی آگاہی اور تیاری کو فروغ دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ایک محفوظ اور مضبوط مستقبل کے لیے پرعزم ہے اور عالمی برادری سے بھی مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی اپیل کرتی ہے۔