وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت چار گھنٹے طویل اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں جاری عوامی منصوبوں کی پیش رفت اور نئے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
اجلاس میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا تمام ریکارڈ ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن 120 دن میں مکمل کی جائے تاکہ شہری اپنی درخواستوں کی صورتحال خود آن لائن معلوم کرسکیں۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں کسی بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کو کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے کنونشن سینٹر، ایکسپو سینٹر اور اسلام آباد ارینہ کی تعمیر کے لیے تین بین الاقوامی کمپنیوں کی پری کوالیفکیشن مکمل ہوچکی ہے۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ یہ منصوبے ایس سی او سمٹ سے قبل مکمل کیے جائیں۔
اجلاس میں ایف-6 سیکٹر میں خدمت مرکز قائم کرنے اور اس کے لیے اراضی مختص کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے جدید تفریحی سہولیات کے فروغ کے لیے ٹاپ گالف، ہاٹ ایئر بیلون، زپ لائن، واٹر پارک اور امیوزمنٹ پارک کے منصوبوں پر جلد کام شروع کرنے کی ہدایت کی، جبکہ کھیلوں کے فروغ کے لیے جدید اسپورٹس کمپلیکس کے قیام پر بھی زور دیا۔
انہوں نے ایف-9 پارک کو ہائیڈ پارک کی طرز پر ترقی دینے اور شاہدرہ ڈیم کے اطراف تفریحی سہولیات کے جامع منصوبے طلب کیے۔ اس کے علاوہ ایکسپریس وے اور کلب روڈ کی بیوٹیفکیشن اور لائٹنگ کا کام فوری شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
وزیر داخلہ نے سی ڈی اے میں کرپشن اسکینڈل بے نقاب کرنے پر چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف اور ممبر اسٹیٹ زمان وٹو کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرپشن میں ملوث کسی فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایکسپریس وے پر سروس روڈ کی تعمیر پلاننگ ڈویژن کی منظوری کے بعد شروع کی جائے گی۔