ان واقعات سے اہم بات یہ سمجھ آتی ہے کہ کینابس کا ٹیسٹ مثبت آنا بے معنی نہیں ہے لیکن اس کا مطلب سمجھنے کے لیے صرف مثبت ٹیسٹ کافی نہیں ہوتا۔ تفتیش کاروں کو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ جسم میں ٹی ایچ سی کی مقدار کتنی تھی، کینابس کب استعمال کی گئی تھی، حادثے کے حالات کیا تھے اور دوسرے شواہد کیا بتاتے ہیں۔

کیا پائلٹ کے جسم میں بھنگ کے آثار ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پرواز کے دوران نشے میں تھا؟ اور کیا یہی طیارے کے اچانک نیچے آنے کی وجہ ہو سکتی ہے؟ ایئر انڈیا کے ایک واقعے نے ایک ایسے سوال کو جنم دیا ہے جس کا جواب صرف ایک مثبت ڈرگ ٹیسٹ سے ملنا اتنا آسان نہیں۔
ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کے بارے میں یہ اطلاعات کہ پرواز کے بعد اس کا بھنگ کے استعمال کا ٹیسٹ مثبت آیا، بظاہر ایسی خبر معلوم ہوتی ہے جو کسی بھی فضائی حادثے کے تفتیش کار کی فوری توجہ حاصل کر سکتی ہے۔
تاہم، اس مبینہ نتیجے کی تاحال سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی اور اگر مثبت نتیجے کی تصدیق ہو بھی جائے تو ضروری نہیں کہ یہ اتنا فیصلہ کن ثبوت ثابت ہو جتنا بظاہر نظر آتا ہے۔
چار اگست کو ایئر انڈیا کا ایک ایئربس اے 320 طیارہ، جو فوکٹ سے دہلی جا رہا تھا، اچانک تقریباً 91 میٹر (300 فٹ) نیچے آ گیا، جس کے نتیجے میں 13 مسافر اور عملے کے چار ارکان زخمی ہو گئے۔ 137 مسافروں اور عملے کے آٹھ ارکان کو لے جانے والا یہ طیارہ بحفاظت دہلی میں لینڈ تو کر گیا مگر اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
انڈیا کی وزارتِ شہری ہوا بازی کے مطابق دونوں پائلٹس کا پرواز کے بعد معمول کے مطابق نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے ٹیسٹ کیا گیا۔ وزارت نے بتایا کہ کپتان کے ابتدائی ٹیسٹ میں ایسا نتیجہ سامنے آیا جس کے بعد ’تصدیقی تحقیقات‘ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں پائلٹوں کو جہاز اُڑانے سے روک دیا گیا ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں متعدد میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ بعد ازاں لیبارٹری میں ہونے والے تصدیقی ٹیسٹ میں کپتان کا ماریجوانا یعنی بھنگ کے استعمال کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ تاہم ایئر انڈیا نے اس نتیجے کی تصدیق نہیں کی۔ ان رپورٹس کے بعد انڈیا میں پائلٹس کے منشیات کے ٹیسٹ اور فضائی سفر کے محفوظ ہونے اور اس کے معیار پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
اب تک ایسا کوئی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا جس میں کپتان کے مبینہ مثبت ڈرگ ٹیسٹ کو طیارے کے اچانک نیچے آنے کے واقعے سے جوڑا گیا ہو۔ تفتیش کار اس واقعے کا مختلف زاویوں سے جائزہ لے رہے ہیں، جن میں تکنیکی، آپریشنل، طبی اور انسانی عوامل شامل ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ طیارہ اچانک نیچے آنے کی وجہ کیا تھی۔
تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا بھنگ کا اس واقعے سے کوئی تعلق ہے بھی کہ نہیں؟
مگر اس سے بھی زیادہ پیچیدہ سوال یہ ہے کہ کینابس یا بھنگ ٹیسٹ کا مثبت نتیجہ درحقیقت پرواز سے کئی گھنٹے قبل پائلٹ کی ذہنی اور جسمانی کیفیت کے بارے میں کیا معلومات فراہم کرتا ہے؟

پیچیدہ نوعیت کے کاموں پر بھنگ کے اثرات کے بارے میں کافی معلومات دستیاب ہیں، لیکن یہ طے کرنے کے بارے میں نسبتاً کم معلومات موجود ہیں کہ کسی مثبت ٹیسٹ کے نتیجے کو ذہنی یا جسمانی کارکردگی میں خرابی کے درست وقت سے کس طرح جوڑا جائے۔
سنہ 1976 میں ہونے والی ایک تحقیق میں 10 پائلٹوں کو بھنگ کی نسبتاً کم مقدار استعمال کرائی گئی، جس کے بعد انھوں نے مصنوعی ماحول میں طیارہ اڑانے کی مشق کی۔ تحقیق کے مطابق ان کی کارکردگی متاثر ہوئی اور اونچائی برقرار رکھنے، سمت کے تعین اور ریڈیو نیویگیشن سے متعلق غلطیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیق میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ یہ اثرات کم از کم دو گھنٹے تک برقرار رہے جبکہ عموماً چار سے چھ گھنٹے کے اندر ختم ہو گئے۔
ایک دہائی بعد، محققین نے دوبارہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ نشہ اترنے کے بعد انسان پر کیا اثرات باقی رہتے ہیں۔
اس تحقیق میں 10 تجربہ کار نجی پائلٹوں کو بھنگ استعمال کرنے کے 24 گھنٹے بعد مصنوعی ماحول میں طیارہ اڑانے کی مشق کروائی گئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ان کی کارکردگی کئی پیمانوں پر نمایاں طور پر متاثر رہی، جن میں طیارے کے کنٹرول، لینڈنگ کی درستگی اور لینڈنگ کے دوران عمودی اور افقی راستے سے انحراف شامل تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ پائلٹوں خود اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کی کارکردگی میں کمی ہوئی ہے۔
1991 میں کی گئی ایک مزید تحقیق میں بھی اسی طرح کے خدشات سامنے آئے۔
اس مطالعے میں نو فعال پائلٹوں نے 20 ملی گرام ٹی ایچ سی پر مشتمل سگریٹ پینے کے بعد مصنوعی ماحول میں طیارہ اڑانے کی مشق کی۔ ٹی ایچ سی یا ٹیٹراہائیڈروکینابینول بھنگ میں پایا جانے والا مرکزی نفسیاتی اثر رکھنے والا مرکب ہے، جو نشے کی کیفیت اور دماغی و جسمانی افعال پر منشیات کے بہت سے اثرات کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق پائلٹوں کی کارکردگی 15 منٹ، چار گھنٹے، آٹھ گھنٹے اور 24 گھنٹے بعد لیے گئے جائزوں میں متاثر پائی گئی۔ نو میں سے سات پائلٹس میں 24 گھنٹے بعد بھی کسی نہ کسی درجے کی کارکردگی میں کمی دیکھی گئی، تاہم صرف ایک پائلٹ کو یہ احساس تھا کہ منشیات کے اثرات اب بھی اس کی صلاحیتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
یہ تمام مطالعات محدود پیمانے پر کیے گئے، نسبتاً پرانے ہیں اور جدید مسافر بردار طیاروں کے بجائے مصنوعی ماحول میں طیارہ اڑانے پر مبنی تھے۔ اسی لیے ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ایئر انڈیا کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کے دوران کاک پٹ میں کیا ہوا تھا۔
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تحقیقات ایک اہم نکتہ ضرور واضح کرتی ہیں اور وہ یہ کہ ’بھنگ ایسی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتی ہے جو پرواز کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، جن میں فائن موٹر کنٹرول، توجہ برقرار رکھنا اور انسان اور مشین کے درمیان پیچیدہ تعلق شامل ہیں۔
آسٹریلیا کے ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو کے لیے شعبۂ طبِ ہوا بازی کے ماہر ڈیوڈ نیومین کی تیار کردہ ایک جائزہ رپورٹ بھی اسی نتیجے پر پہنچی تھی۔
رپورٹ کے مطابق بھنگ استعمال کرنے سے انسان کے رویے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور جسمانی حرکات پر اثر پڑتا ہے اور جتنی زیادہ مقدار استعمال کی جائے یہ اثرات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ جہاز اڑانے جیسے پیچیدہ کاموں میں یہ اثرات خاص طور پر اہم ہوتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ بھنگ کے کچھ اثرات استعمال کرنے کے 24 گھنٹے تک باقی رہ سکتے ہیں۔
تاہم، جیسے جیسے دنیا کے کئی حصوں میں بھنگ کا استعمال عام ہوا ہے اور اس سے تیار کی جانے والی مصنوعات میں مؤثر مادّے کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے اس حوالے سے سائنسی تصویر مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
سنہ 2022 میں کیلیفورنیا یونیورسٹی، سان ڈیاگو کے تھامس مارکوٹ کی سربراہی میں ایک طبی تحقیق کی گئی، جس میں 191 ایسے افراد نے حصہ لیا جو باقاعدگی سے بھنگ استعمال کرتے تھے۔ اس تحقیق میں شرکا کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے بھنگ کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
جن لوگوں نے ٹی ایچ سی والی بھنگ استعمال کی، انھوں نے ڈرائیونگ کی مصنوعی آزمائش میں نسبتاً خراب کارکردگی دکھائی۔ لیکن محققین کے سامنے یہ آیا کہ کسی شخص کی کارکردگی کتنی متاثر ہو سکتی ہے اس کا اندازہ صرف بھنگ میں موجود ٹی ایچ سی کی مقدار، اس شخص کے سابقہ تجربے یا خون میں ٹی ایچ سی کی مقدار دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ دوا کے استعمال کے فوراً بعد کارکردگی متاثر ہوئی، لیکن تقریباً ساڑھے چار گھنٹے بعد بھنگ استعمال کرنے والے افراد کی کارکردگی ان لوگوں کے برابر ہو گئی جنھیں یہ دوا نہیں دی گئی تھی۔
ہوابازی کے شعبے میں ٹیسٹنگ کے تناظر میں یہ نتیجہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مثبت ٹیسٹ یہ تو ظاہر کر سکتا ہے کہ جسم میں ٹی ایچ سی موجود ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس سے یہ معلوم ہو سکے کہ بھنگ کب استعمال کی گئی تھی یا اس وقت متعلقہ شخص اس کے زیرِ اثر تھا یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق اس تعلق کا انحصار اس کی مقدار، طریقۂ استعمال اور ہر فرد کی حیاتیاتی ساخت پر ہوتا ہے۔
یہی ایک وجہ ہے کہ بھنگ ریگولیٹرز کے لیے ایسا مسئلہ بن جاتی ہے جو شراب کے معاملے میں نسبتاً کم پیچیدہ ہے۔
تھامس مارکوٹ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’شراب کے برعکس، جہاں خون میں الکحل کی مقدار اور کارکردگی میں کمی کے درمیان نسبتاً مضبوط تعلق پایا جاتا ہے، ٹی ایچ سی کے معاملے میں یہ تعلق کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سگریٹ کے ذریعے استعمال کیے جانے کے بعد ٹی ایچ سی تیزی سے خون سے خارج ہو جاتی ہے اور خون میں اس کی مقدار اور متاثرہ کارکردگی کے درمیان بہت کم یا بالکل کوئی واضح تعلق نہیں پایا جاتا۔‘
انھوں نے مزید کہا ’جو لوگ کبھی کبھار بھی بھنگ استعمال کرتے ہیں ان کے خون میں آخری استعمال کے کئی دن بعد اور بعض اوقات کئی ہفتوں بعد تک بھی ٹی ایچ سی کا سراغ مل سکتا ہے خاص طور پر ان افراد میں جو زیادہ باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔ یہ اس وقت کے کافی بعد کی بات ہے جب اس کے فوری اثرات ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔‘
تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ بھنگ کو سگریٹ کے ذریعے استعمال کرنے کے بعد اس کے اثرات عموماً تین سے پانچ گھنٹے تک رہتے ہیں۔ تاہم اگر اسے کھانے کی کسی چیز، مثلاً ایڈیبل، کے ذریعے استعمال کیا جائے تو یہ اثرات زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں، عموماً چھ سے آٹھ گھنٹے یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ۔
مارکوٹ کے مطابق ایڈیبل کے ذریعے استعمال کی صورت میں 11-او ایچ-ٹی ایچ سی نامی میٹابولائٹ اکثر ٹی ایچ سی کے مقابلے میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی سے زیادہ قریبی تعلق رکھتا ہے کیونکہ اس وقت خون میں ٹی ایچ سی نسبتاً کم مقدار میں موجود ہو سکتی ہے۔
چنانچہ حیرت کی بات نہیں کہ بھنگ کے لیے ایسا کوئی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ٹیسٹ موجود نہیں جو یقین کے ساتھ یہ بتا سکے کہ کوئی شخص اس وقت اتنا متاثر ہے کہ وہ طیارہ اڑانے کے قابل نہیں۔
کینیڈا نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نسبتاً سخت اور واضح حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
سنہ 2018 میں تفریحی مقاصد کے لیے بھنگ کو قانونی قرار دینے کے بعد ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایک ضابطہ متعارف کرایا، جس کے تحت ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ افراد اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کے لیے ڈیوٹی سے کم از کم 28 روز قبل تک بھنگ کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا۔
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ’اس ضابطے کا مقصد بھنگ کے اثرات اور اس کی نشاندہی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا تدارک کرنا تھا، جبکہ ایئرلائنز اس سے بھی زیادہ سخت قواعد نافذ کر سکتی ہیں۔‘
امریکی ہوا بازی کا تجربہ بھی یہ کہتا ہے کہ صرف مثبت ٹیسٹ کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔
سنہ 2026 میں امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی ایک تحقیق میں سنہ 2018 سے سنہ 2022 کے دوران امریکہ میں سول ہوا بازی کے حادثات میں ہلاک ہونے والے پائلٹوں کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق 52.8 فیصد پائلٹوں کے جسم میں کم از کم ایک دوا یا منشیات سے متعلق مادّے کے آثارات پائے گئے، جبکہ 27.7 فیصد میں دو یا اس سے زیادہ مادّے موجود تھے۔
تحقیق کے مطابق غیر قانونی منشیات کی نشاندہی میں اضافے کی بڑی وجہ ٹی ایچ سی تھی۔ تاہم این ٹی ایس بی نے واضح طور پر کہا کہ یہ تحقیق صرف جسم میں منشیات اور اس سے متعلق مادّوں کی موجودگی سے متعلق تھی، نہ کہ اس بات سے کہ حادثے کے وقت پائلٹس ان کے زیرِ اثر تھے یا نہیں۔

لیکن بعض معاملات میں تفتیش کاروں کو اس سے زیادہ معلومات بھی ملی ہیں۔
سنہ 2011 میں کینیڈا میں ایک طیارہ حادثے میں ’کیسینا 208 بی‘ کے پائلٹ کے خون میں ٹی ایچ سی کی مقدار 50.1 نینو گرام فی ملی لیٹر پائی گئی۔ کینیڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے اس پر یہ نتیجہ نکالا کہ جسم میں موجود نشہ آور کینابینوئڈز کی مقدار اتنی تھی کہ اس سے پائلٹ کی سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی تھی اور غالب امکان ہے کہ اس نے پرواز کی منصوبہ بندی اور اسے چلانے کے طریقے کو بھی متاثر کیا۔
اس کے برعکس مثالیں بھی موجود ہیں۔
سنہ 2017 میں نیوزی لینڈ میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد پائلٹ کے خون میں ٹی ایچ سی پایا گیا۔ معلوم ہوا کہ انھوں نے حادثے سے دو دن پہلے بھنگ استعمال کی تھی۔ لیکن ایک ماہر نے کہا کہ ’حادثے کے وقت ان کے بھنگ کے زیرِ اثر ہونے کا امکان بہت کم تھا۔‘ تفتیش کاروں نے بھی یہ نتیجہ نکالا کہ حادثے میں بھنگ کا کردار ہونا بہت غیر محتمل تھا۔
ان واقعات سے اہم بات یہ سمجھ آتی ہے کہ بھنگ کا ٹیسٹ مثبت آنا بے معنی نہیں ہے لیکن اس کا مطلب سمجھنے کے لیے صرف مثبت ٹیسٹ کافی نہیں ہوتا۔ تفتیش کاروں کو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ جسم میں ٹی ایچ سی کی مقدار کتنی تھی، بھنگ کب استعمال کی گئی تھی، حادثے کے حالات کیا تھے اور دوسرے شواہد کیا بتاتے ہیں۔
ایئر انڈیا کے معاملے میں بھی تفتیش کاروں کو صرف یہ معلوم ہونا کافی نہیں ہوگا کہ کپتان کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
انھیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ٹیسٹ کے لیے کون سا نمونہ استعمال کیا گیا تھا، آیا اس میں ٹی ایچ سی موجود تھا یا ٹی ایچ سی کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والا مادہ (میٹابولائٹ)، اس کی مقدار کتنی تھی، اور کیا اس معلومات کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھنگ کب استعمال کی گئی تھی۔
حادثے کے بعد ایئر انڈیا نے اپنے تمام پائلٹس کے ممنوعہ نشہ آور مادوں کے ٹیسٹ فوری طور پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے کے قوانین کے تحت کم از کم 10 فیصد پائلٹس کا اچانک ٹیسٹ کیا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق پیشاب، خون اور تھوک کے ٹیسٹ سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کے جسم میں ٹی ایچ سی پہنچا تھا، لیکن ان ٹیسٹوں سے یہ قابلِ اعتماد طور پر معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ ٹی ایچ سی کب استعمال کیا گیا تھا یا کئی گھنٹے پہلے کسی خاص وقت پر وہ شخص نشے کے اثر میں تھا یا نہیں۔
تھوک کا ٹیسٹ حالیہ استعمال کے ساتھ نسبتاً زیادہ تعلق رکھتا ہے، لیکن اس میں بھی ٹی ایچ سی استعمال کے کئی گھنٹے بعد اور بعض اوقات ایک یا دو دن تک پایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں ہے کہ ’کیا پائلٹ نے بھنگ استعمال کی تھی؟ بلکہ تین اہم سوال ہیں وہ یہ کہ کیا پائلٹ نے بھنگ استعمال کی تھی؟ کیا پرواز کے دوران پائلٹ بھنگ کے اثر میں تھا؟ کیا اس اثر کی وجہ سے طیارہ اچانک بلندی کھونے لگا؟
پہلے سوال کا جواب شاید جلد مل جائے، لیکن دوسرے اور تیسرے سوال کا جواب دینا کہیں زیادہ مشکل ہے۔