پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا ہے کہ 29 اپریل کی رات پیک اوقات میں ملک بھر میں بجلی کی صورتحال مکمل طور پر مستحکم رہی اور کسی قسم کی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ روز پن بجلی کی پیداوار 6000 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ ملک میں پن بجلی کی مجموعی پیداواری استعداد 11500 میگاواٹ ہے۔ مقامی گیس کی فراہمی میں اضافے سے مختلف پاور پلانٹس کی پیداوار میں بھی بہتری آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پن بجلی اور اضافی مقامی گیس کی دستیابی کے باعث نظام میں استحکام آیا اور نیشنل گرڈ میں مزید 100 میگاواٹ بجلی شامل کی گئی جبکہ جنوبی حصے سے مجموعی طور پر 500 میگاواٹ بجلی کی ترسیل بھی ممکن ہوئی۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر اکنامک لوڈ مینجمنٹ پالیسی کے تحت لوڈشیڈنگ جاری ہے تاہم اس کا پیک اوقات کی لوڈ مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث 4700 میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے پیداوار متاثر ہے تاہم ایل این جی کی فراہمی اور پانی کے اخراج میں بہتری سے رات کے اوقات میں شارٹ فال ختم ہونے کی توقع ہے۔