عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، جس نے صحت عامہ کے لیے سنگین خطرات پیدا کردیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت اور چین مل کر عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس سی کے 39 فیصد بوجھ کے ذمہ دار ہیں، جبکہ پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جہاں اس مرض سے 58 فیصد اموات رپورٹ ہورہی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق سال 2024 کے دوران دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے 18 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے، جبکہ ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی کے باعث مجموعی طور پر 13 لاکھ 40 ہزار اموات ہوئیں، جو ان بیماریوں کو مہلک ترین امراض میں شامل کرتی ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہیپاٹائٹس سی کے صرف 20 فیصد مریضوں کو علاج کی سہولت میسر آ سکی، جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے 5 فیصد سے بھی کم مریض علاج حاصل کر پا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور آلودہ انجیکشنز اس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔
خصوصی طور پر پاکستان میں غیر محفوظ انجیکشنز کے استعمال اور سرنجز کے بار بار استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ جعلی آٹو ڈس ایبل سرنجز عوام میں تحفظ کا غلط تاثر پیدا کرسکتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا کہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین 95 فیصد سے زائد تحفظ فراہم کرتی ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کا علاج 8 سے 12 ہفتوں میں ممکن ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے عالمی اہداف کے حصول کے لیے موجودہ پیشرفت ناکافی ہے۔