نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ مون سون سیزن کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں شدید موسمی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، جن میں گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور پوٹھوہار میں اربن فلڈنگ شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کی اہلکار زہرا حسن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس سال ایل نینو کے ساتھ سپر ایل نینو کے امکانات بھی موجود ہیں، جو موسمی شدت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جب سمندری درجہ حرارت معمول سے تقریباً 0.8 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ جائے تو اسے ایل نینو کہا جاتا ہے، جبکہ 2 ڈگری سے زیادہ اضافے کی صورت میں اسے سپر ایل نینو قرار دیا جاتا ہے۔
زہرا حسن کے مطابق سپر ایل نینو کے باعث مون سون کے دوران بالائی علاقوں اور بلوچستان میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں گلاف (گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے) کے واقعات اور پوٹھوہار کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس موسمی نظام کے باعث نہ صرف سمندروں بلکہ زمین کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے اثرات ملک بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔