اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعرات کے روز 190 ملین پاؤنڈ کیس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزاؤں کی معطلی اور اپیلوں سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران دفاعی وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلین چاہتے ہیں کہ پہلے سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں پر دلائل سنے جائیں، جس کے بعد مرکزی اپیلوں پر کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ اپیلوں کو پہلے تیار کیا جائے، جس کے بعد عدالت انہیں سماعت کے لیے مقرر کرے گی۔ انہوں نے وکیل کو ہدایت کی کہ دلائل کے لیے باقاعدہ شیڈول فراہم کیا جائے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جب اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہوجاتی ہیں تو سزاؤں کی معطلی کی درخواستیں غیر مؤثر ہوجاتی ہیں، لہٰذا دفاع کو اپیلوں پر دلائل دینے چاہئیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اپیلوں کو سننے کے لیے تیار ہے اور اگر شیڈول فراہم کیا جائے تو ہفتے میں دو سے تین دن دلائل کے لیے مختص کیے جاسکتے ہیں۔