اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بچوں کو ہتھکڑیاں باندھ کر پیش کرنے کا واقعہ

image

وفاقی دارالحکومت میں اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں کم عمر بچوں کو ہتھکڑیوں میں پیش کیے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیسبک پر ایڈووکیٹ میاں آصف محمود نامی صارف کی جانب سے پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد کے دفتر میں 7 سے 8 سال کے کم سن بچوں کو ہتھکڑیوں میں پیش کیا گیا۔ اس عمل کو صارفین اور مختلف حلقوں کی جانب سے افسوسناک، غیر انسانی اور قابلِ مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔

وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کم عمر بچے ایک سرکاری دفتر میں زمین پر بیٹھے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ اس نوعیت کا رویہ نہ صرف ان کے بنیادی حقوق بلکہ عزتِ نفس اور انسانی وقار کی بھی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس عمر کے بچوں کو مجرموں کی طرح پیش کرنا ان کی ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

قانونی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں سے متعلق معاملات میں خصوصی احتیاط اور حساسیت برتنا لازم ہے اور ایسے کیسز کو اصلاحی انداز میں نمٹایا جانا چاہیے، نہ کہ بچوں کو خوف یا تذلیل کا سامنا کروایا جائے۔

مزید برآں، ماہرین نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ آیا ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی جانب سے اس نوعیت کے اختیارات کا استعمال قانونی دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی ایک ذمہ دارانہ عمل ہے جو بااختیار عدالتی افسران کے ذریعے ہی انجام پانا چاہیے تاکہ قانون کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر بچے کسی جرم میں ملوث ہوں تو ان کے کیسز کو جووینائل جسٹس سسٹم کے تحت نمٹایا جانا چاہیے، نہ کہ تعزیرات پاکستان یا عمومی فوجداری قوانین کے تحت۔

تاحال اس معاملے پر ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم واقعے نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US