لُو سے بچنے کے لئے پیاز جیب میں رکھنے کے بجائے کھانا مفید، ماہرین

image

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی معاشرے میں پرانے گھریلو ٹوٹکے دوبارہ زبان زدِ عام ہونے لگتے ہیں۔ انہی میں ایک معروف مشورہ یہ بھی ہے کہ تیز دھوپ میں نکلتے وقت جیب میں پیاز رکھ لی جائے تاکہ لُو کے اثرات سے بچا جا سکے۔ یہ خیال خاص طور پر برصغیر میں نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے جہاں بزرگ آج بھی بچوں اور بڑوں کو احتیاطاً پیاز ساتھ رکھنے کا کہتے ہیں۔

عام سوچ یہ ہے کہ پیاز کسی حد تک گرم ہوا کے اثر کو کم کر دیتی ہے یا اسے اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ لُو لگنے کی صورت میں پیاز کا عرق جسم پر لگانے کو بھی مفید سمجھتے ہیں خاص طور پر سینے یا تلووں پر۔ تاہم جدید طب اس تصور کو سائنسی بنیادوں پر درست نہیں مانتی۔

ماہرین صحت کے مطابق پیاز اپنی غذائی افادیت کے لحاظ سے ایک مفید سبزی ضرور ہے۔ اس میں پانی کی مناسب مقدار، وٹامن سی، وٹامن بی6، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں موجود ایک مرکب کوئرسیٹن جسم میں سوزش کم کرنے اور درجہ حرارت کے توازن میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن یہ فوائد اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب پیاز کو خوراک کا حصہ بنایا جائے نہ کہ اسے محض جیب میں رکھا جائے۔

طبی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ پیاز کھانے سے جسم کو کچھ حد تک ٹھنڈک اور توانائی مل سکتی ہے اور یہ میٹابولزم کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے لیکن اسے ساتھ رکھنے سے ہیٹ اسٹروک یا لُو سے بچاؤ کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔

ڈاکٹرز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گرمی سے بچنے کے لیے سادہ اور مؤثر طریقے اختیار کیے جائیں۔ زیادہ پانی پینا، نمکیات والی مشروبات استعمال کرنا، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہننا، سر کو ڈھانپ کر رکھنا اور خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری باہر جانے سے پرہیز کرنا سب سے زیادہ مؤثر اقدامات ہیں۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پیاز ایک مفید غذا تو ہے لیکن اسے جیب میں رکھ کر لُو سے مکمل تحفظ کی امید رکھنا ایک روایتی خیال ہے جسے سائنسی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US