متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ کے پہاڑی علاقے میں پیش آنے والا ایک واقعہ ایک پاکستانی گائیڈ کی ہمت اور ذمہ داری کی مثال بن گیا ہے، جس کی تعریف اب صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بھی اس کا ذکر ہو رہا ہے۔ مشکل حالات میں فوری فیصلہ اور عملی قدم نے ایک انسانی جان کو بچالیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک پاکستانی ہائیکنگ گروپ پہاڑی راستے پر موجود تھا۔ اسی دوران اطلاع ملی کہ ایک غیر ملکی خاتون اچانک گر کر بے ہوش ہو گئی ہیں۔ شدید گرمی کے باعث ان کی حالت خراب ہوچکی تھی اور وہ ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوگئی تھیں، جس سے صورتحال مزید سنگین بن گئی۔
ایسے میں گائیڈ فیصی شلمانی نے بغیر وقت ضائع کیے خاتون کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور خطرناک اور دشوار گزار راستے سے نیچے لانے کا فیصلہ کیا۔ راستہ نہ صرف طویل تھا بلکہ اس میں چڑھائی اور پتھریلے حصے بھی شامل تھے، جس نے اس کام کو مزید مشکل بنا دیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور تقریباً تین گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد خاتون کو محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔
اس دوران ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال نہیں کیا جاسکا کیونکہ علاقے کی ساخت ایسی تھی جہاں فضائی مدد ممکن نہیں تھی۔ ایسے حالات میں انسانی کوشش ہی واحد راستہ رہ گئی تھی، جسے گائیڈ نے بخوبی نبھایا۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی بہادری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مشکل وقت میں بروقت اقدام اور ذمہ داری کا احساس کس قدر اہم ہوتا ہے۔