ڈارون میں نو وکٹوں سے فتح بنگلہ دیش کی آسٹریلیا میں پہلی ٹیسٹ جیت ہے جو کہ اسے 23 سال بعد پہلی بار آسٹریلیا میں کھیلتے ہوئے حاصل ہوئی۔ خیال رہے کہ نو سال قبل بنگلہ دیش نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر بھی آسٹریلیا کو ایک ٹیسٹ میں شکست دی تھی۔

بنگلہ دیش نے آسٹریلیا میں میزبان کو شکست دے کر ٹیسٹ کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔
ڈارون میں نو وکٹوں سے فتح بنگلہ دیش کی آسٹریلیا میں پہلی ٹیسٹ جیت ہے جو کہ اسے 23 سال بعد پہلی بار آسٹریلیا میں کھیلتے ہوئے حاصل ہوئی۔ خیال رہے کہ نو سال قبل بنگلہ دیش نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر بھی آسٹریلیا کو ایک ٹیسٹ میں شکست دی تھی۔
لیکن ڈارون ٹیسٹ میں بنگلہ دیش نے پہلے روز سے ہی میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور عالمی نمبر ون ٹیم آسٹریلیا کو کسی بھی لمحے میچ میں واپسی کا موقع نہ دیا۔
میچ کے چوتھے روز آسٹریلیا کی ٹیم دوسری اننگز میں 284 رنز پر آؤٹ ہوئی جس کے بعد بنگلہ دیش نے ایک وکٹ کے نقصان پر 57 رنز کا ہدف حاصل کر لیا۔
اس میچ کے بہترین کھلاڑی حسن محمود قرار پائے جنھوں نے اس میچ میں مجموعی طور پر نو وکٹیں حاصل کیں۔ انھوں نے پہلی اننگز میں 55 رنز دے کر چھ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا جو کہ ان کی کریئر کی بہترین پرفارمنس ہے۔

بنگلہ دیش کی میچ میں شاندار کارکردگی
ویسے تو آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں آسٹریلیا پہلے نمبر اور بنگلہ دیش کی نویں نمبر کی ٹیمیں ہیں مگر ڈارون ٹیسٹ میں صورتحال یکسر الٹ دکھائی دی۔
پہلی اننگز میں آسٹریلوی ٹیم 198 پر آل آؤٹ ہوئی جس میں سٹیو سمتھ کے 71 رنز شامل تھے۔ حسن محمود نے اس اننگز میں چھ وکٹیں بٹوریں۔
بنگلہ دیش نے اپنی پہلی اننگز میں 426 رنز بنائے جس دوران تنزید حسن نے سنچری بنائی۔ اس اننگز میں کپتان نجم الحسین شانتو کے 84 رنز اور مہدی حسن میراز کے 65 رنز بھی شامل تھے۔ آسٹریلیا کی طرف سے فاسٹ بولر جوس ہیزلوڈ نے چھ وکٹیں حاصل کیں۔
اپنی دوسری اننگز میں آسٹریلیا مشکل سے برتری حاصل کر سکا۔ کیمرون گرین نے سنچری بنائی جس کے علاوہ کوئی بھی بیٹر متاثر کن کھیل پیش نہ کر سکا۔
مہدی حسن میراز نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ حسن محمود نے اس اننگز میں تین وکٹیں حاصل کیں۔ بنگلہ دیش نے اپنی دوسری اننگز میں باآسانی ایک وکٹ کے نقصان پر 57 رنز کا ہدف حاصل کر لیا۔
یہ جیت بنگلہ دیش کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہے، خاص طور پر ایسے سال میں جب اس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کی۔ تاہم مارچ سے اب تک ٹیم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن کا نقطۂ عروج یہ بڑی ٹیسٹ فتح ہے۔
اس جیت کو اتنا ناقابلِ یقین بنانے والی ایک اور بات میچ سے پہلے بنگلہ دیش کی فارم ہے۔ صرف ایک ہفتہ قبل بنگلہ دیش کی ٹیم سی اے الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں 54 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی۔ ٹیسٹ سیریز میں زخمی نہید رانا کی عدم موجودگی کے بارے میں زور و شور سے باتیں ہو رہی تھیں۔
جبکہ بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن اپ کمزور ہونے کے بھی دعوے کیے جا رہے تھے۔
تاہم بنگلہ دیش نے توقعات کے برعکس عمدہ کھیل پیش کیا جبکہ اس میچ میں آسٹریلیا نے پانچ کیچ بھی ڈراپ کیے۔
بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں 426 رنز بنا کر 228 رنز کی برتری حاصل کی جس کا دباؤ آسٹریلوی ٹیم نہ جھیل سکی۔
فاتح کپتان شانتو، جو آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم تھے، نے اس تاریخی فتح کے بعد پوری ٹیم کو اس کا کریڈٹ دیا ہے۔
انھوں نے میچ کے بعد گفتگو کے دوران کہا کہ ’میں بہت خوش ہوں۔ خود پر فخر ہے اور جس طرح لڑکوں نے کھیل پیش کیا اس پر بھی فخر ہے۔ ہم نے بہت محنت کی ہے۔‘
انھوں نے اسے تمام فارمیٹس میں بنگلہ دیش کی سب سے بڑی فتح قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پانچ سال قبل فاسٹ بولرز ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتے تھے۔ لیکن ہم نے کافی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی ہے اور اب وہ ٹیسٹ فارمیٹ کو اہمیت دے رہے ہیں۔
’وہ کھیلنا چاہتے ہیں، اچھی کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں اور عالمی معیار کے کھلاڑی بننا چاہتے ہیں۔ اب ان کی ذہنیت یہی ہے۔
’یہ اب تک کسی بھی فارمیٹ میں بنگلہ دیش کی سب سے بڑی جیت ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے ہم مستقبل میں کچھ خاص کرنا چاہتے ہیں۔‘

فتح کے بعد وزیر اعظم کے ساتھ ویڈیو کال
اس فتح پر بنگلہ دیشی ٹیم کو کافی داد مل رہی ہے۔
ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر این بشپ نے ایکس پر لکھا کہ یہ بنگلہ دیشی کرکٹ اور بنگلہ دیش کے عوام کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔ ’یقیناً اب وہ ان تعریفوں اور مناسب اعتراف کے مستحق ہیں جو ماضی میں بعض حلقوں کی جانب سے انھیں بہت کم ملا تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس کامیابی میں ’کئی کھلاڑیوں کا کردار رہا، جن میں مہدی، تنزید اور دیگر شامل ہیں۔ لیکن خاص طور پر حسن محمود کئی برسوں سے، جب بھی مکمل طور پر فٹ رہے ہیں، بہت اچھی لائن اور لینتھ کے بولر ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا سیدھا اور موثر بولنگ ایکشن دیکھنے کے لائق ہے۔ کوچ فل سیمنز اور ان کی ٹیم کے لیے بھی خوشی ہے۔‘
انڈیا کے سابق سپنر آر ایشون نے لکھا کہ ’یہ نتیجہ ایک بار پھر مخصوص ٹیسٹ مراکز کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ڈارون کی کنڈیشنز نے آسٹریلوی ٹیم کو حیران کر دیا۔‘
بھرت رامراج نامی صارف نے کہا کہ ’آسٹریلیا میں ٹیسٹ جیتنا، وہ بھی اس ملک میں 23 سال تک کوئی ٹیسٹ نہ کھیلنے کے بعد۔ اور پھر آسٹریلیا کے مضبوط بولنگ اٹیک کے چیلنج سے نمٹنا۔‘
’بنگلہ دیش نے ایک تقریباً مکمل ٹیسٹ میچ کھیلا۔ اُس لمحے سے جب آسٹریلیا نے ایسی پچ پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جس میں بولرز کے لیے کافی مدد موجود تھی۔ جی ہاں، آسٹریلیا نے یہ فیصلہ اُس وقت کیا جب وہ جانتے تھے کہ اُن کی بیٹنگ میں کچھ مسائل موجود ہیں۔‘
میچ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کپتان شانتو نے بتایا کہ اس فتح کے بعد بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے ٹیم کو ویڈیو کال کر کے مبارکباد دی۔
دریں اثنا اس میچ میں کامیابی کے بعد بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید اسلام نے بھی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ’یہ آسٹریلیا کی سرزمین پر پہلی مرتبہ تاریخی ٹیسٹ فتح ہے۔ یہ ہماری توقعات سے بھی بڑھ کر ہے۔‘
گرور گلاب نامی صارف نے طنز کیا کہ ’ڈارون میں بنگلہ دیش آسٹریلیا کو نظریہ ارتقا کا سبق سکھا رہا ہے!‘