خاندانی سپورٹ نہ ملنے سے دوبارہ نہیں کھڑا ہوسکا، کراچی کی سڑکوں پر تنہا زندگی گزارنے والا قابل نوجوان

image

کراچی کی سڑکوں پر ایک ایسا نوجوان زندگی گزارنے پر مجبور ہے جو نہ صرف تعلیم یافتہ ہے بلکہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے میں 7 سے 8 سال کا قابلِ قدر تجربہ بھی رکھتا ہے۔ ثاقب تنویر نامی یہ نوجوان حالات کے جبر اور خاندانی مسائل کے باعث آج بے گھر اور بے سہارا ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ثاقب تنویر کے والدین کی علیحدگی کے بعد اس کی زندگی یکسر بدل گئی۔ خاندانی سپورٹ نہ ہونے کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار رہا اور آہستہ آہستہ حالات نے اسے سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ثاقب نہ صرف انگریزی زبان پر مکمل عبور رکھتا ہے بلکہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے جدید شعبے میں بھی کئی سال کا عملی تجربہ رکھتا ہے، جو اس کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ تاہم، مناسب مواقع اور سہارا نہ ملنے کے باعث وہ اپنی مہارتوں کو استعمال میں نہیں لا سکا۔

ایک انٹرویو میں ثاقب کا کہنا تھا کہ میں آج اپنے والدین کی وجہ سے اکیلا ہوں، میں والد اور والدہ کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ آپ سے ضرور سوال کرے گا۔

بے یار و مددگار ثاقب تنویر کا کہنا تھا کہ میری زندگی میں کافی اتار چڑھاؤ آتے رہے، میں نے آئی بیکس میں بھی ملازمت کی اور مختلف کال سینٹرز میں بھی نوکری کی۔

نوجوان نے بتایا کہ لوگ ایک وقت تک ساتھ دیتے ہیں، جب مجھ پر مشکلات آتی گئیں تو لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے والے ثاقب تنویر کا کہنا تھا کہ والد کے گھر والوں کی طرف سے میری زندگی میں مشکلات پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں جن کی وجہ سے میں آج یہاں ہوں، جبکہ والدہ سے اب بھی بات چیت ہے مگر ان کی دوسری شادی ہوچکی ہے تو میں ان پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔

سوشل میڈیا صارفین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف معاشرتی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح باصلاحیت افراد مناسب رہنمائی اور مواقع نہ ملنے کی وجہ سے گمنامی اور مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں صارفین نے حکومت اور فلاحی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افراد کی فوری مدد کی جائے اور انہیں دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، تاکہ ثاقب تنویر جیسے ہنر مند افراد اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر باعزت زندگی گزار سکیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US