اٹک کی 19 سالہ لڑکی جو رنگ و روغن کے کام میں مہارت سے خاندان کا سہارا بن گئیں

image

اٹک میں ایک منفرد مثال سامنے آئی ہے جہاں 19 سالہ ہنر مند مریم اپنے والد کے ساتھ مل کر گھروں اور دکانوں کے رنگ و روغن کا کام کر رہی ہیں، اور نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت میں حصہ ڈال رہی ہیں بلکہ معاشرے کے لیے حوصلہ افزا پیغام بھی بن چکی ہیں۔

مریم نے رنگ و روغن کا ہنر اپنے والد عمران فضل سے سیکھا، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی پیشے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کر سکیں، تاہم حالات نے انہیں کم عمری میں ہی عملی زندگی میں قدم رکھنے پر مجبور کر دیا۔

مریم کے مطابق کورونا وبا کے دوران جب ان کے والد کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی موسیٰ کے ساتھ مل کر والد کا پیشہ سیکھنا شروع کیا۔ آج وہ دونوں نہ صرف اپنے والد کا سہارا ہیں بلکہ اپنی چار بہنوں کے لیے بھی امید کی کرن بن چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ گھروں، دکانوں اور بلند عمارتوں میں رنگ و روغن کے تمام مراحل مہارت اور اعتماد کے ساتھ انجام دیتی ہیں۔ گھروں میں کام کے دوران خواتین انہیں دیکھ کر خوشی اور حیرت کا اظہار کرتی ہیں اور اکثر ان سے دوستانہ تعلق بھی قائم ہو جاتا ہے۔

مریم کا کہنا ہے کہ ان کے والد اب عمر رسیدہ ہو چکے ہیں، اس لیے وہ کوشش کرتی ہیں کہ دھوپ میں بلند عمارتوں پر رنگ و روغن جیسے مشکل کام خود انجام دیں۔ ان کے بقول یہ کام صرف روزگار نہیں بلکہ اپنے خاندان کی ذمہ داری نبھانے کا ذریعہ بھی ہے۔

اسی پیشے سے وابستہ ٹھیکیدار محمد نوید اسلم نے بتایا کہ ان کی ٹیم میں شامل عمران، موسیٰ اور مریم نے کام کو مزید بہتر اور منظم بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق مریم نہایت اعتماد کے ساتھ کام کرتی ہیں اور بعض مواقع پر اکیلے ہی اندرونی کام بھی سنبھال لیتی ہیں، جس سے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آتی۔

نوید اسلم کا کہنا ہے کہ عمران اور ان کے بچوں کی محنت اور لگن نے ان کے کام کو نئی پہچان دی ہے اور اب گاہک بھی ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ مریم کے والد عمران فضل، جن کا تعلق مسیحی برادری سے ہے، کہتے ہیں کہ زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں مگر اصل طاقت وہ رشتے ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹیاں اور بیٹا ان کے لیے یہی سہارا ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، جن میں مریم دوسرے نمبر پر ہیں۔ کورونا کے دوران معاشی مشکلات بڑھنے پر مریم اور موسیٰ نے ان کا ساتھ دینا شروع کیا اور آج دونوں اپنے کام میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔

عمران فضل کے مطابق مریم اب تھری ڈی ورک سمیت رنگ و روغن کے مختلف کام نہایت مہارت سے انجام دیتی ہیں۔ خاص طور پر گھروں کے اندر کام کے دوران، جہاں پردے اور خواتین سے متعلق معاملات ہوتے ہیں، مریم خود ذمہ داری سنبھال لیتی ہیں جس سے کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ بیٹیاں ایک بڑی نعمت ہیں جو نہ صرف محبت کرنے والی ہوتی ہیں بلکہ مشکل وقت میں مضبوط سہارا بھی بنتی ہیں۔ ان کے مطابق بیٹیوں کو محبت کے ساتھ ساتھ اعتماد اور عزت دینا بھی ضروری ہے کیونکہ وہ بھی بیٹوں کی طرح گھر کا بوجھ اٹھا سکتی ہیں، بلکہ بعض اوقات اس سے بڑھ کر ذمہ داریاں نبھاتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US