راولپنڈی کی خصوصی احتساب عدالت نمبر 1 نے آر ڈی اے کے 2.3 ارب روپے مالیت کے میگا کرپشن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے شریک ملزم محمد جمال کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
خصوصی احتساب عدالت کے جج اعجاز علی نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف منی لانڈرنگ کے واضح شواہد موجود ہیں، اس لیے وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق نیب تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ایک ارب 94 کروڑ روپے جعلی ٹرانزیکشنز اور بوگس سی ڈی آرز کے ذریعے منتقل کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
نیب کے مطابق 39 کروڑ 72 لاکھ روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے ADDED نامی نجی کمپنی میں منتقل کیے گئے، جبکہ ملزم پر غیر قانونی رقوم سے لگژری گھر، قیمتی گاڑی اور زرعی اراضی خریدنے کا بھی الزام ہے۔ تحقیقات میں گوجرخان اور سوہاوہ میں زرعی اراضی کی خریداری سامنے آئی، جبکہ ٹویوٹا فارچونر گاڑی نمبر TAJ-313 بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کا فعل اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
محمد جمال نے درخواست ضمانت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں بے بنیاد طور پر کیس میں ملوث کیا گیا اور 7 ماہ حراست کے باوجود نیب ان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکا، تاہم عدالت نے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کردی۔
واضح رہے کہ کیس کے مرکزی ملزم اور آر ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس محمد جنید تاج انتقال کرچکے ہیں، جبکہ میگا کرپشن کیس میں آر ڈی اے افسران سمیت 20 سے زائد ملزمان نامزد ہیں۔