قطر سے سستی گیس ملنے کی امید کے پیش نظر پاکستان نے ایل این جی کے دو اسپاٹ کارگوز کے لیے موصول ہونے والی سب سے کم عالمی بولیاں مسترد کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے جمعرات کے روز ہونے والی بولی میں بین الاقوامی سپلائرز کی جانب سے موصول ہونے والی کم ترین پیشکشوں کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا باوجود اس کے کہ بولی کا عمل سخت مقابلے پر مبنی تھا۔
حکام کے مطابق پاکستان دو کارگوز ’’ٹرم کنٹریکٹ‘‘ کی شرح پر حاصل کر سکتا ہے جو برینٹ خام تیل کی قیمتوں کے 13.37 فیصد کے برابر ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کے تحت قطر سے ایل این جی نسبتاً کم قیمت پر حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد سب سے کم بولی دینے والی کمپنیوں بی پی سنگاپور اور ٹوٹل انرجیز گیس اینڈ پاور لمیٹڈ کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ان کی پیشکشیں قبول نہیں کی گئیں۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ پیش رفت قطر کی جانب سے دو ایل این جی کارگوز کی ممکنہ دستیابی سے جڑی ہوئی ہے جنہیں آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان تک پہنچایا جا سکتا ہے۔