ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک کی فارماسیوٹیکل برآمدات کو 2030 تک 10 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ جاری کردیا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کی موجودہ فارماسیوٹیکل برآمدات تقریباً ایک ارب ڈالر سالانہ ہیں، جبکہ نئے منصوبے کے تحت آئندہ برسوں میں اس شعبے کو نمایاں وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ اس روڈ میپ کا مقصد ملک کو خام ادویاتی مواد، طبی آلات اور ویکسینز کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی صنعت کو مضبوط بنانا ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے کے تحت مقامی سطح پر خام مال کی تیاری، جدید طبی آلات کی پیداوار اور ویکسین سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا تاکہ پاکستان عالمی فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا سکے۔
ڈریپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پالیسی اصلاحات، صنعتی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے فارماسیوٹیکل شعبے کو برآمدی معیشت کا اہم ستون بنایا جائے گا۔