لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کو مستقل نمبردار مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ برادری اور ذات کی بنیاد پر نمبر کم کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ضلع لودھراں کے ڈپٹی کمشنر اور بورڈ آف ریونیو کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا، جن کے ذریعے درخواست گزار کلثوم اختر کی تقرری روکی گئی تھی۔
مستقل نمبردار کی نشست تحصیل دنیاپور، ضلع لودھراں میں سابق نمبردار کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ کلثوم اختر نے اس عہدے کے لیے درخواست دی، تاہم انہیں برادری کی بنیاد پر صفر نمبر دے کر میرٹ لسٹ سے باہر کردیا گیا تھا۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ کلثوم اختر کے والد اسی گاؤں کے مستقل نمبردار رہ چکے ہیں، اس لیے بیٹی کو برادری کی بنیاد پر نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر نے دوبارہ جائزے کے بعد کلثوم اختر کو میرٹ پر پہلی پوزیشن دی تھی، تاہم بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے برادری کا جواز پیش کرتے ہوئے ان کے نمبر کم کر دیے۔
لاہور ہائیکورٹ نے محمد اعظم کی بطور نمبردار تقرری بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ ریونیو حکام کو ہدایت کی کہ 30 روز کے اندر کلثوم اختر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خواتین کو سرکاری عہدوں میں مساوی مواقع فراہم کرنا آئینی تقاضا ہے اور باصلاحیت خواتین کو سماجی تعصب کی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ انتظامی اختیارات من مانے انداز میں استعمال نہیں کیے جاسکتے جبکہ بورڈ آف ریونیو اس کیس میں قانونی تضادات اور میرٹ کا درست جائزہ لینے میں ناکام رہا۔