آن لائن بینک فراڈ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی آئینی عدالت نے نجی بینک کی اپیل خارج کرتے ہوئے شہری کی رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ بینکنگ سسٹم میں سکیورٹی کمزوریاں کسی بھی صورت صارف کے نقصان کا جواز نہیں بن سکتیں۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیکرز اکثر بینکنگ سسٹمز کے اندر موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لہٰذا بینکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نظام کو محفوظ اور مضبوط بنائیں۔
کیس کے مطابق لیہ کے رہائشی کے اکاؤنٹ سے سال 2022 میں 15 لاکھ 34 ہزار روپے نکالے گئے تھے۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے یہ بھی بتایا کہ انہیں بھی ماضی میں فراڈیوں کی جانب سے کالز موصول ہوچکی ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ شہری کو مکمل رقم واپس کی جائے اور بینک صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔