پاکستان کا افغان طالبان کو سخت احتجاجی مراسلہ، دہشتگرد حملے پر شدید تشویش کا اظہار

image

وزارت خارجہ پاکستان نے افغانستان میں قائم افغان طالبان حکومت کے قائم مقام سفارتکار کو طلب کر کے خیبر پختونخوا میں پولیس پوسٹ پر ہونے والے دہشتگرد حملے پر شدید احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان ناظم الامور کو طلب کر کے 9 مئی 2026 کو بنوں کے علاقے فتح خیل پولیس پوسٹ پر ہونے والے گاڑی بم حملے پر پاکستان کا مؤقف واضح کیا گیا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ حملے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار شہید اور 4 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک شہری بھی شامل ہے۔ پاکستان نے اس حملے کو فتنۃ الخوارج کی کارروائی قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی تحقیقات، شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے کی۔

پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے کہا ہے کہ افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لیے استعمال ناقابلِ قبول ہے اور اس پر فوری، ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور داعش سے تعلق رکھنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US