سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باوجود ریلوے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ تاہم بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث حکومت سے سبسڈی طلب کی گئی ہے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ کمیٹی نے بھی ریلوے کو سبسڈی دینے کی حمایت کردی۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی شہادت علی اعوان نے ریلوے میں چوری کے بڑھتے واقعات اور ڈرائی پورٹ لیز معاہدے کی تفصیلات طلب کرلیں۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ریلوے پولیس نے بتایا کہ چوری کے واقعات پر آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
اجلاس کے دوران بھلوال میں ریلوے کی اراضی پر قائم پیٹرول پمپ کے معاملے پر وزارت ریلوے کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومتی رکن ناصر بٹ نے کہا کہ ایک شخص نے مذکورہ سائٹ کے لیے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے کی پیشکش کی تھی، تاہم پاکستان ریلوے نے وہ جگہ صرف ساٹھ لاکھ روپے میں دے دی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی ای او ریلوے نے تعیناتی کے ایک ماہ کے اندر ہی ادارے کو نقصان پہنچایا ہے۔
ناصر بٹ نے ریلوے پھاٹکوں پر عملے کی عدم موجودگی سے انسانی جانوں کو لاحق خطرات کی بھی نشاندہی کی اور وفاقی وزیر ریلوے کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر اعتراض اٹھایا۔
کمیٹی نے ریلوے املاک کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عوامی وسائل کو احتیاط سے استعمال کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے ریلوے اسٹیشنز پر ویڈیو بنانے اور فوٹوگرافی پر پابندی کے معاملے کو قانون کے مطابق دیکھنے کی ہدایت بھی جاری کی۔