لاہور کے مختلف اسپتالوں میں استعمال ہونے والی کینسر کے علاج کی دو دوائیں جعلی ثابت ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دواؤں کی پیکنگ، لیبلنگ اور بارکوڈ میں سنگین تضادات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کینسر مریضوں کے لیے استعمال ہونے والا امفنزی انجیکشن اور اینہرٹو جعلی نکلیں۔ جعلی ادویات کی نشاندہی لاہور کے اسپتالوں میں موجود طبی ماہرین نے کی۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے مطابق دونوں ادویات کی پیکنگ، لیبلنگ اور بارکوڈ میں واضح اور سنگین تضادات پائے گئے ہیں۔ ڈریپ کا کہنا ہے کہ امفنزی انجیکشن مختلف اقسام کے کینسر کے علاج میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ اینہرٹو دوا تیزی سے پھیلنے والے کینسر کے مریضوں کو دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ادویات اصل کمپنی کی تیار کردہ نہیں تھیں۔ سویڈن کی دوا ساز کمپنی AstraZeneca نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ ادویہ ان کی تیار کردہ نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ اسپتالوں اور طبی مراکز کو مشتبہ ادویات کے استعمال سے متعلق احتیاطی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔