وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑھتی آبادی کے تناظر میں رہائشی ضروریات، شہری منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیرِاعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی آبادی کے پیش نظر ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کی فراہمی، سستے گھروں کے منصوبے، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور عوامی سہولیات کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بے ہنگم شہری پھیلاؤ کے باعث زرعی زمین پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے لیے مؤثر اور جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے تمام امور کو ڈیجیٹائز اور آٹومیٹ کیا جائے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جاسکے۔
وزیرِاعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہاؤسنگ سیکٹر کو باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لایا جائے تاکہ بیرون ملک سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکیں۔
اجلاس میں ہاؤسنگ اصلاحات سے متعلق مختلف تجاویز پیش کی گئیں، جن میں ریگولیٹری فریم ورک کو آسان بنانے، معتبر سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو سہولیات فراہم کرنے، اور شعبے میں شفافیت بڑھانے پر زور دیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہاؤسنگ اور ڈویلپمنٹ سیکٹر میں کام کرنے والے اداروں کی ایس ای سی پی میں رجسٹریشن لازمی قرار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ شہری بے ترتیبی کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، جبکہ بڑے شہروں میں اونچی عمارتوں اور عمودی (ورٹیکل) ترقی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ بڑے شہروں کے لیے ماسٹر ٹاؤن پلاننگ کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔
مزید بتایا گیا کہ ڈویلپرز، خریداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے ون ونڈو سسٹم کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ سہولیات اور خدمات کو مؤثر بنایا جاسکے۔
وزیرِاعظم نے ان تجاویز پر صوبوں کے ساتھ مشاورت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مربوط پالیسی سازی کے ذریعے ہاؤسنگ سیکٹر میں دیرپا اصلاحات کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ، وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی روابط رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔