بشریٰ بی بی سے فیملی ملاقات، ذاتی معالج تک رسائی کی درخواست پر عدالتی فیصلہ محفوظ

image

بشریٰ بی بی سے فیملی ملاقات، ذاتی معالج تک رسائی اور ضروری سامان کی فراہمی سے متعلق درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 17 اپریل 2026 کو سرجری کے بعد بشریٰ بی بی کی فیملی سے مختصر ملاقات کرائی گئی تھی، جبکہ آخری باقاعدہ ہفتہ وار ملاقات 24 فروری 2026 کو ہوئی۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 24 فروری کے بعد سات ہفتوں تک کوئی ملاقات نہیں کرائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی بیمار ہیں اور ان کی سرجری بھی ہوچکی ہے، تاہم بعض سوشل میڈیا پوسٹس کو بنیاد بنا کر ملاقاتوں سے روکا جا رہا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ کسی بھی قیدی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا جاسکتا۔

سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی فرد کا معاملے سے تعلق نہیں تو اس کی سوشل میڈیا پوسٹس پڑھنے کی ضرورت بھی نہیں۔

بعدازاں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قیدی کو سہولیات دینے یا نہ دینے کا اختیار جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس ہے۔ انہوں نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے فیصلے کے خلاف آئی جی جیل خانہ جات سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ ملاقاتوں کے بعد معلومات باہر جا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں، جس سے ملک میں خوف و ہراس پھیلتا ہے، جبکہ موجودہ حالات میں ایسی صورتحال پیدا نہیں کی جا سکتی۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US