ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے تعمیری شراکت داری اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور باہمی احترام کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی صورتحال، امن کوششوں اور سفارتی روابط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کو ورلڈ اربن فورم کے انعقاد پر نیک خواہشات بھی پیش کیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشرق وسطیٰ تنازع سے متعلق خصوصی نمائندے ژاں آرنو سے ملاقات کی، جس میں اقوام متحدہ نے پاکستان کی امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہا۔
ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے سنگاپور، ایران، سعودی عرب، آسٹریا اور چین کے وزرائے خارجہ سے بھی مختلف ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں، بحری سلامتی اور آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہوں کے امور زیر بحث آئے۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس حقائق کے برعکس تھیں۔ ترجمان نے کہا کہ چین نے پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو سراہا اور مکمل حمایت کا اظہار کیا، جبکہ پاکستان پر “مزید کردار ادا کرنے” کے تاثر کی تردید کی گئی۔
ترجمان نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا جس میں نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی کو متنازع انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے مطابق مذکورہ طیارے جنگ بندی کے دوران اسلام آباد مذاکرات سے متعلق سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی امور کے لیے آئے تھے اور ان کا کسی عسکری سرگرمی سے تعلق نہیں تھا۔
دوسری جانب بنوں میں فتح خیل پولیس پوسٹ پر دہشت گرد حملے کے بعد افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ ترجمان کے مطابق 9 مئی کے حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کی گئی۔ پاکستان نے افغان حکام سے فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش خراسان سمیت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی، امن اور استحکام کے خلاف سرگرم تمام دہشت گرد نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کو کسی بھی بیک ڈور یا ٹریک ٹو سفارتی رابطوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں مذاکرات کے امکان سے متعلق اٹھنے والی آوازیں ایک مثبت پیش رفت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اشاروں کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے تعمیری ردعمل کا منتظر ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان، امریکا اور چین کے درمیان ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورۂ چین کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ دورے کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان حتمی فیصلے کے بعد کیا جائے گا۔