اسمارٹ اسلام آباد انیشی ایٹو کو فنڈز کی کمی کے باعث عارضی طور پر تعطل کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں منصوبے پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) نے فنڈنگ کی ناکافی دستیابی کے باعث منصوبے پر کام عارضی طور پر معطل کردیا ہے اور وزارت آئی ٹی سے پراجیکٹ کا پی سی ون نظرثانی کرنے کی درخواست کی ہے۔
منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 708.3 ملین روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم حکام کے مطابق یہ رقم منصوبے کی ضروریات کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے این آئی ٹی بی نے مزید 208 ملین روپے کی اضافی فنڈنگ کی درخواست بھی کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے ایک اہم جزو فیوژن سینٹر کے لیے آلات کی خریداری کے حوالے سے ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی بولیاں موصول ہوئیں، جس کے بعد مجموعی لاگت میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے پر جسمانی پیش رفت تقریباً 20 فیصد ہے، تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث مالی پیش رفت صفر ریکارڈ کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق حکومت اس منصوبے کے لیے بجٹ میں اضافہ کرکے اسے ایک سے ڈیڑھ ارب روپے تک لے جانے پر غور کر رہی ہے، جبکہ پی سی ـ ون کی نظرثانی کا عمل آئندہ بجٹ سے قبل مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسمارٹ اسلام آباد انیشی ایٹو کو ابتدائی طور پر دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا تھا، جس کا مقصد دارالحکومت میں سیکیورٹی، گورننس اور عوامی خدمات کو ڈیجیٹل نظام کے تحت جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔